انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افریقہ کو سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت ملنی چاہیے، گوتیرش

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی امن اور افریقی ریاستوں کی سلامتی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی امن اور افریقی ریاستوں کی سلامتی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

افریقہ کو سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت ملنی چاہیے، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ عام بھلائی کی جدوجہد میں براعظم افریقہ کا اہم کردار ہے اور اسے سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت سمیت عالمی سطح پر فیصلہ سازی میں جائز نمائندگی ملنی چاہیے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ امن و سلامتی قائم کرنے کے عالمی نظام میں افریقہ کی شرکت اور قیادت یقینی بنانا ضروری ہے۔ تاہم، آج افریقی ممالک کو سلامتی کونسل سمیت ایسے کسی پلیٹ فارم پر نمائندگی حاصل نہیں ہے۔ 

سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی

افریقہ کو مسلح تنازعات، دہشت گردی اور متشدد انتہاپسندی کا سامنا ہے۔ ساحل خطے کے ممالک سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں۔ جھیل چاڈ کے طاس، صومالیہ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی اور انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔ جمہوریہ کانگو اور شاخ افریقہ کو متواتر تشدد کا سامنا ہے اور سوڈان میں انسانی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ افریقہ کے ممالک کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، صنفی بنیاد پر اور جنسی تشدد کے علاوہ جرائم کے ذمہ داروں کا محاسبہ نہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ 

ان حالات میں ناصرف براعظم میں بلکہ عالمی منظرنامے پر بھی امن کی جدوجہد میں افریقہ کے کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ افریقہ کے ممالک کو ترقی کے لیے درکار مدد مل سکے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کی 'کانفرنس برائے مستقبل' ممالک کو ان امور پر پیش رفت کا موقع دے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ افریقن یونین کے اقدام 'سائلنسنگ دی گنز' کے ذریعے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے افریقن یونین کے زیرقیادت اقدامات میں تعاون کے لیے سلامتی کونسل کے فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا۔