انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: خارکیئو پر حملوں میں شدت سے انسانی امدادی ضروریات میں اضافہ

خارکیئو پر حملے کے بعد کا ایک منظر۔
© IOM
خارکیئو پر حملے کے بعد کا ایک منظر۔

یوکرین: خارکیئو پر حملوں میں شدت سے انسانی امدادی ضروریات میں اضافہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیئو میں روس کے فضائی و زمینی حملوں کے نتیجے میں لوگوں کی نقل مکانی اور بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی ترجمان شابیہ منٹو نے کہا ہے کہ خارکیئو اور یوکرین کے دیگر علاقوں میں روس کے متواتر حملوں نے پہلے سے مخدوش حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ یوکرین کے خلاف روس کا بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے لیکن ملک بھر میں بمباری اور ہلاکتوں میں کوئی کمی نہیں آئی جبکہ بہت بڑی تعداد میں گھر اور شہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔

Tweet URL

گزشتہ ہفتے یوکرین کے حکام نے رضاکاروں اور امدادی اداروں کی مدد سے خارکیئو کے سرحدی دیہات سے 10,300 لوگوں کو انخلا میں مدد دی۔ ان میں معمر اور معذور افراد کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو قبل ازیں حملوں کے وقت اپنے گھروں سے نکل نہیں پائے تھے۔ 

روسی پیش قدمی

خارکیئو یوکرین کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جہاں پہلے ہی دو لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ شابیہ منٹو نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس کے زمینی حملے اور بمباری یونہی جاری رہی تو مقامی آبادی کے لیے حالات اور بھی مشکل ہو جائیں گے۔ اس طرح مزید بہت سے لوگوں کو تحفظ اور بقا کے لیے خارکیئو سے انخلا کرنا پڑے گا۔ 

ترجمان نے بتایا کہ خارکیئو میں توانائی کے نطام پر حملے خاص طور پر تشویش ناک ہیں جہاں بجلی کی ترسیل پہلے ہی گنجائش سے بہت کم ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، 10 مئی کے بعد اندازاً 16 ہزار لوگوں نے خارکیئو سے نقل مکانی کی ہے جہاں روس کی افواج پیش قدمی کر رہی ہیں۔ 

شہریوں کا جانی نقصان

'اوچا' نے مقامی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران خارکیئو شہر پر روزانہ حملے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں بچوں اور حاملہ خواتین سمیت بیسیوں لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔ ایک حملے میں ایمبولینس گاڑی کو بھی نقصان پہنچا جس میں سوار طبی عملے کا ایک رکن زخمی ہو گیا۔ 

یوکرین میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان ڈاکٹر جورنو ہیبٹ نے کہا ہے کہ فروری 2022 کے بعد یوکرین میں صحت کے نظام پر 1,700 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ اس دوران ہر سال اوسطاً 200 ایمبولینس گاڑیوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔ یہ جنگ کے حالات میں یوکرین کے لوگوں کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

ہزاروں افراد معذور 

ڈاکٹر ہیبٹ کے مطابق ملک میں تقریباً ایک کروڑ لوگوں کو ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک 20 ہزار افراد کسی نہ کسی جسمانی عضو سے محروم ہو چکے ہیں۔ امدادی و ترقیاتی شراکت داروں کو طویل مدتی طور پر ان دونوں مسائل پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ 

انہوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ خارکیئو میں لڑائی کے باعث امدادی ضروریات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے تاہم آئندہ سردیوں سے قبل مختصر مدتی ضروریات پر بھی خاص توجہ دینا ہو گی۔ گزشتہ دو برس کے مقابلے میں اس وقت یوکرین کے لیے انسانی امداد میں کمی کی وجہ سے دوران جنگ سردیوں کے موسم کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔

اس ضمن میں 'ڈبلیو ایچ او' نے چرنیئو اور اوڈیسا سمیت کئی علاقوں کے ہسپتالوں کو گرم رکھنے کا انتظام شروع کر دیا ہے۔

'اوچا' کے مطابق رواں سال یوکرین کے لیے 3.1 ارب ڈالر کے امدادی وسائل درکار ہیں لیکن تاحال ان کا 23 فیصد ہی مہیا ہو پایا ہے۔ شابیہ منٹو نے بتایا ہے کہ اندرون و بیرون ملک یوکرینی پناہ گزینوں کے لیے درکار مالی وسائل میں سے اب تک 16 فیصد ہی میسر ہوئے ہیں جو کہ مایوس کن صورتحال ہے۔