انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی: فلسطینی مبصر ریاست کے حقوق بڑھانے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

فلسطینی مبصر ریاست کی حیثیت پر ہونے والی رائے شماری کا نتیجہ  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں آویزاں ہے۔
UN Photo
فلسطینی مبصر ریاست کی حیثیت پر ہونے والی رائے شماری کا نتیجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں آویزاں ہے۔

جنرل اسمبلی: فلسطینی مبصر ریاست کے حقوق بڑھانے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور

امن اور سلامتی

غزہ کی صورتحال اور اسرائیل فلسطین بحران پر جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی ہنگامی اجلاس میں رکن ممالک نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کی رو سے فلسطینی ریاست کو ادارے کی مکمل رکنیت دیے بغیر بطور مبصر اس کے حقوق کو وسعت دی گئی ہے۔

قرارداد کے حق میں 143 ارکان اور 9 نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 25 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والے 9 ممالک میں امریکہ سرفہرست ہے جو اس سے پہلے سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی درخواست کو بھی ویٹو کر چکا ہے۔

قرارداد 193 رکنی جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے لیے پیش کی گئی تھی، جہاں کسی ملک کے پاس ویٹو کا اختیار نہیں ہے۔ بھاری اکثریت سے قرارداد پاس کرتے ہوئے جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل کو تجویز دی ہے کہ وہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کے معاملے پر ادارے کے چارٹر کے آرٹیکل 4 اور 1948 میں عالمی عدالت انصاف کی جاری کردہ رائے کے تحت دوبارہ غور کرے۔ 

قرارداد کے ضمیمے میں نظرثانی شدہ قرارداد بھی شامل ہے جس میں مکمل رکنیت ملنے کی صورت میں جنرل اسمبلی کے اجلاسوں اور کانفرنسوں میں فلسطینی ریاست کی حیثیت میں آنے والی تبدیلیوں کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ اس میں مقررین کی فہرستوں اور نشستوں میں اس کے نمائندے کی جگہ کا تعین بھی شامل ہے۔

رائے دینے کا حق

مبصر کی حیثیت سے فلسطینی ریاست کے پاس جنرل اسمبلی میں ووٹ دینے یا سلامتی کونسل یا معاشی و سماجی کونسل جیسے اداروں میں رکنیت کا امیدوار بننے کا حق نہیں ہے۔ 

قرارداد منظور ہونے پر فلسطین کو جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے یہ حقوق حاصل ہو جائیں گے جو ستمبر 2024 کے وسط سے شروع ہونا ہے۔ 

ایسی قراردادیں رسمی منظوری حاصل کرنے سے پہلے جنرل اسمبلی کے باقاعدہ موقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔ 

اب جبکہ جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے بعد قرارداد منظور ہوگئی ہے تو فلسطین کی حیثیت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سلامتی کونسل کے پاس جائے گا، جہاں اسے مکمل رکنیت دینے کی کوشش کو مستقل رکن امریکہ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ویٹو کا سامنا ہوسکتا ہے۔ 

دسواں خصوصی ہنگامی اجلاس 

جمعہ کو ہونے والا اجلاس جنرل اسمبلی کے دسویں ہنگامی خصوصی اجلاس کا تسلسل ہے جس کا آخری مرتبہ انعقاد 12 دسمبر 2023 کو غزہ کے بگڑتے بحران کے پس منظر میں ہوا تھا۔ 

اس موقع پر بھاری اکثریت سے مںظور کردہ قرارداد میں اسمبلی نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی کے لیے کہا تھا۔ اس موقع پر اسمبلی نے عارضی طور پر اپنا اجلاس ملتوی کرنے اور ادارے کے صدر کو رکن ممالک کی درخواست پر اسے دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی دیا۔ 

ہنگامی خصوصی اجلاس پہلی مرتبہ 1997 میں قطر کی درخواست پر منعقد ہوا تھا۔ اس میں اسرائیل کے مشرقی یروشلم میں ایک بڑا رہائشی منصوبہ شروع کیے جانے کے فیصلے پر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل ہونے کی صورت میں:

  • فلسطین کو رکن ممالک کے ساتھ حروف تہجی کے اعتبار سے نشست ملے گی۔
  • اسے ممالک کے کسی گروہ کی جانب سے بیانات دینے کا اختیار ہو گا۔
  • وہ تجاویز اور ترامیم پیش کرنے اور انہیں متعارف کرانے کا اہل ہو گا۔
  • اسے کسی دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کے ساتھ مل کر تجاویز اور ترامیم پیش کرنے کا حق ہو گا۔
  • وہ باقاعدہ یا خصوصی اجلاسوں کے ایجنڈے میں اضافہ تجویز کر سکے گا اور اسے ایسے اجلاسوں کے ایجنڈے میں اضافی باتیں شامل کرنے کی تجویز دینے کا حق بھی ہو گا۔
  • فلسطینی وفد کے ارکان کو جنرل اسمبلی کی مکمل اور مرکزی کمیٹیوں میں بحیثیت عہدیدار شمولیت کا حق ہو گا۔
  • وہ اقوام متحدہ کی کانفرنسوں اور جنرل اسمبلی یا اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی سرپرستی میں منعقدہ بین الاقوامی اجلاسوں اور ملاقاتوں میں مکمل و موثر شرکت کر سکے گا۔