انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: اجتماعی قبروں میں لاشوں کے ہاتھ بندھے ملے، انسانی حقوق دفتر

غزہ کا الشفاء ہسپتال ملبے اور لوگوں کے ہجوم سے تباہ۔
WHO غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال الشفاء اسرائیلی حملے کے بعد۔

غزہ: اجتماعی قبروں میں لاشوں کے ہاتھ بندھے ملے، انسانی حقوق دفتر

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں میں پائی گئی لاشیں بے لباس تھیں یا ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ یہ ہلاکتیں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے مترادف ہو سکتی ہیں۔

اجتماعی قبریں شمالی غزہ کے الشفا ہسپتال اور جنوبی علاقے خان یونس کے نصر ہسپتال میں دریافت ہوئیں جو اسرائیلی فوج کے محاصرے اور جنگی کارروائیوں ہدف رہے ہیں۔ نصر ہسپتال سے مجموعی طور پر 283 لاشیں ملی ہیں جن میں سے 42 کی شناخت ہو چکی ہے۔

Tweet URL

دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے بتایا ہے کہ ان میں دیگر کے علاوہ معمر افراد، خواتین اور زخمی لوگوں کی لاشیں بھی ہیں۔ 

الشفاء ہسپتال میں اجتماعی قبریں

ترجمان نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ الشفا ہسپتال کے صحن میں دو اجتماعی قبروں سے 30 فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں ایک قبر ہنگامی علاج کے شعبے اور دوسری گردوں کی صفائی کے شعبے کی عمارت کے سامنے پائی گئی۔ 

قبروں سے برآمد ہونے والی 12 لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ بقیہ کی پہچان ممکن نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق الشفا ہسپتال سے ملنے والی بعض لاشوں کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ 

اسرائیلی فوج کی جانب سے الشفا ہسپتال میں کارروائی کے دوران 200 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ 

دہشت کے 200 ایام

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ میں 200 روز سے جاری جنگ میں نصر اور الشفا ہسپتالوں کی تباہی اور وہاں سے اجتماعی قبروں کی دریافت کو ہولناک قرار دیا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ شہریوں، قیدیوں اور ایسے افراد کی دانستہ ہلاکت جنگی جرم ہے جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ہائی کمشنر نے ان اموات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

غزہ میں مریض کی منتقلی کے دوران ڈبلیو ایچ او کا طبی کارکن نیلے رنگ کے ہیلمٹ میں ایک نوجوان لڑکی کو ایمبولینس کے اندر پکڑے ہوئے ہے۔
© WHO غزہ کے شمال میں واقع کمال اضوان ہسپتال سے ایک مریضہ بچی کو شہر کے جنوبی حصہ کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی ہلاکتیں

22 اپریل تک غزہ میں 14,685 بچوں اور 9,670 خواتین سمیت 34 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 77,084 زخمی ہو چکے ہیں۔ اندازے کے مطابق 7,000 سے زیادہ لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر 10 منٹ کے بعد ایک بچے کی ہلاکت ہوتی ہے۔ بچوں کو جنگی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے تاہم وہ اس جنگ کی تباہ کاریوں سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ 

ہائی کمشنر کا انتباہ

وولکر ترک نے جنوبی شہر رفح میں بڑے پیمانے پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کی صورت میں بھاری انسانی نقصان کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 12 لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ 

انہوں نے رفح میں حالیہ دنوں اسرائیلی حملوں میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے رہنما اس علاقے میں پھنسی شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کی لازمی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

19 اپریل کو رفح کے علاقے تل السلطان میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں چھ بچوں اور دو خواتین سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح الشبورا کیمپ پر اسرائیلی فوج کے حملے میں ایک بچی اور حاملہ خاتون سمیت چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز زخموں سے دم توڑتی ماں کی کھوکھ سے اس کے بچے کی جان بچانے کے مناظر ہولناک ہیں۔ یہ خاتون جس حملے میں زخمی ہوئی اس میں 15 بچے اور پانچ خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔

انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی، باقی ماندہ تمام یرغمالیوں کی رہائی اور علاقے میں انسانی امداد کی بلاروک و ٹوک فراہمی کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔

مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک بڑا ہجوم، جن میں سے بہت سے حجاب پہنے ہوئے ہیں، شمالی غزہ کی ایک گلی میں جمع ہیں، جو ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے خوراک کی امداد کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
© WFP/Photolibrary غزہ میں ایک بیکری 170 دن بند رہنے کے بعد جب کھلی تو خریداری کے لیے سینکڑوں لوگ جمع ہو گئے۔

آباد کاروں کے حملے

ہائی کمشنر نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کو کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے اور اسرائیلی آباد کار سکیورٹی فورسز کے تعاون سے اپنی کاررروائیاں منظم کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے اس بارے میں نور شمس پناہ گزین کیمپ اور تلکرم شہر میں 50 گھنٹے پر محیط کارروائی کا حوالہ دیا ہے جو 18 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔ اس کارروائی میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اپنے زمینی دستوں، بلڈوزروں اور ڈرون طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کیمپ کو بند کر دیا۔ اس دوران تین بچوں سمیت 14 فلسطینی ہلاک اور اسرائیلی فورسز کے 10 ارکان زخمی ہوئے۔ 

وولکر ترک نے کہا ہے کہ نور شمس کیمپ پر کیے جانے والے حملے میں بھی فلسطینیوں کو غیرقانونی طور پر ہلاک کیا گیا جبکہ اسرائیلی فورسز نے خود پر ہونے والی حملوں سے بچنے کے لیے غیرمسلح فلسطینیوں کو بطور ڈھال استعمال کیا۔ اس کارروائی میں درجنوں افراد کو حراست میں لے کر بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کیمپ کو بری طرح تباہ کر دیا گیا۔