توانائی کے پائیدار اہداف کا حصول مخلوط اقدامات سے ممکن، ڈینس فرانسس
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے پائیدار توانائی کے فروغ کی دہائی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کثیرالجہتی کوششوں پر زور دیا ہے۔
جنرل اسمبلی کے زیراہتمام 'ہفتہ استحکام' کے اختتام پر ان کا کہنا ہے کہ اس دہائی کے دوران بہت سی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں اور کئی اہداف کے حصول میں ناکامیوں کا سامنا بھی رہا۔
ترقی پذیر ممالک نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی تنصیب کے معاملے میں سالانہ 9.6 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ اس دوران 2015 کے بعد دنیا میں بجلی تک رسائی رکھنے والی آبادی کی تعداد 87 فیصد سے بڑھ کر 91 فیصد تک جا پہنچی۔ تاہم، توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقلی کی رفتار اب بھی بہت سست ہے اور اس منتقلی کے فوائد تمام لوگوں تک یکساں طور سے نہیں پہنچ رہے۔
دنیا بھر کے لیے پائیدار توانائی کے فروغ کی دہائی سے متعلق متفقہ اعلامیے کی منظوری 2012 میں دی گئی تھی۔ اس کا مقصد پائیدار ترقی کے لیے قابل تجدید توانائی کی قابل بھروسہ، کم خرچ، معاشی طور پر قابل عمل، سماجی طور پر قابل قبول اور ماحولیاتی اعتبار سے بہتر خدمات اور وسائل تک رسائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
کروڑوں لوگ بجلی سے محروم
ڈینس فرانسس نے کہا کہ پائیدار توانائی کے حوالے سے درپیش مسائل پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کی اہمیت یوں بھی ہے کہ کم ترین ترقی یافتہ ممالک میں 7 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو تاحال بجلی میسر نہیں ہے۔
کم خرچ، قابل بھروسہ، پائیدار اور جدید توانائی تک تمام لوگوں کو رسائی دینا ہو گی اور اس کے ساتھ 2030 تک دنیا بھر میں توانائی کی پیداوار میں قابل تجدید ذرائع کے حصے میں نمایاں اضافہ کرنا ہو گا۔
انہوں نے دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی مقدار کو تین گنا بڑھانے کے لیے فعال کوششیں کرنے اور ہر سال توانائی کی بچت میں اضافے پر بھی زور دیا۔
ڈینس فرانسس نے کہا کہ دنیا میں اربوں لوگ تاحال توانائی تک خاطرخواہ رسائی نہیں رکھتے یا انہیں سرے سے کسی بھی طرح کی توانائی میسر نہیں ہے جبکہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو چاند پر چھٹیاں منانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ہدف کا حصول
انہوں نے پائیدار توانائی سے متعلق اہداف کے حصول کے لیے تین طریقے تجویز کیے جن میں سرمایہ کاری، وسائل کا درست استعمال اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کئی ٹریلین ڈالر درکار ہیں۔ حکومتوں، نجی شعبوں، سول سوسائٹی اور دیگر کو اختراعات اور عملی اقدامات کی رفتار تیز کرنے کے لیے اکٹھے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تمام کوششوں میں بین الاقوامی تعاون بہت ضروری ہے۔
ہفتہ استحکام کے اجلاس
اس ہفتے کے دوران دنیا بھر سے وزرا اور مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات نے سیاحت، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے میں توانائی کے کردار پر غوروخوض اور تبادلہ خیال کیا۔
اس دوران اسمبلی کے صدر نے بالخصوص پسماندہ لوگوں کو پائیدار نقل و حمل تک مساوی رسائی دینے کے لیے کہا۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر ایسے سیاحتی شعبے کو ترقی دینے کی بات کی گئی جس میں مقامی طور پر تیار کردہ اشیا اور خدمات کی طلب میں اضافہ ہو۔
ایک اجلاس میں معیاری، قابل بھروسہ، پائیدار اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کی ضرورت پر بھی بات چیت ہوئی جس سے لوگوں کے لیے قدرتی آفات کے مقابل خود کو تحفظ دینا ممکن ہو گا اور دیگر فوائد کے علاوہ پائیدار تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔
پائیدار توانائی کی دہائی
اگرچہ پائیدار توانائی کی دہائی رواں برس ختم ہو رہی ہے تاہم اسمبلی کے صدر نے رکن ممالک، نجی شعبوں اور دیگر متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس دہائی کے اہداف کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید بڑھائیں۔
اگر اس حوالے سے 2030 تک کے اہداف کو حاصل کرنا ہے تو دہائی کے باقاعدہ اختتام کے بعد بھی اس سے حاصل ہونے والے سیاسی تحرک کو برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنا ہو گی۔