گوتیرش کی مشرق وسطیٰ میں حد درجہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث اسرائیل اور ایک مکمل آزاد، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مابین پائیدار امن کے قیام کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں حالات مزید نازک ہو جائیں گے اور خطے بھر میں لاکھوں لوگوں کو تشدد کے دائمی خطرے کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تحمل سے کام لیتے ہوئے مسلح تنازعات کے دور رس نتائج کے بارے میں خبردار کیا۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت کوئی غلطی یا غلط فہمی بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ کا باعث بن سکتی ہے جس کے تمام فریقین اور پوری دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے اسرائیل پر ایران کے حملے اور اس سے قبل شام میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیل کی عسکری کارروائی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب انتقامی اقدامات کے خونی سلسلے کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
جنگ بندی کا مطالبہ
سیکرٹری جنرل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اکٹھے ہو کر کام کرے جو پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دھانے پر لا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کشیدگی کو ختم کرنے کی غرض سے سفارت کاری کی ضرورت ہے جس کا آغاز غزہ سے ہونا چاہیے۔ غزہ میں جنگ کے خاتمے سے خطے بھر میں تناؤ بھی کم ہو جائے گا۔
انہوں نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور علاقے میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حماس اور دیگر فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت، جنسی تشدد اور لوگوں کو یرغمال بنایا جانا انسانیت کی انتہائی بنیادی اقدار اور بین الاقوامی قانون کی پامالی ہے۔
غزہ کا 'جہنم'
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً سات ماہ سے جاری اسرائیلی بمباری اور زمینی حملوں نے غزہ کو جہنم بنا دیا ہے۔ اس عرصہ میں 13,800 بچوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 20 لاکھ فلسطینی قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔
حالیہ دنوں اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے متعدد وعدے کیے ہیں۔ اس کے بعد عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے تین امدادی قافلوں کو ایریز کراسنگ سے غزہ میں تین روز تک خوراک اور آٹا پہنچانے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے تاخیری اقدامات اور پابندیوں کے باعث اس پیش رفت کے اثرات محدود یا بعض اوقات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر امدادی ضروریات
سیکرٹری جنرل نے غزہ میں قحط اور بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات کے خطرے سے بچنے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کے لیے کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ امدادی اداروں کو لوگوں تک محفوظ طور سے مدد پہنچانے کے قابل ہونا چاہیے۔ اس وقت غزہ میں 250 امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 180 کا تعلق اقوام متحدہ سے تھا۔
بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی اسرائیل کی جانب سے ایسی کارروائیوں میں مکمل اور فعال تعاون کا تقاضا کرتی ہے۔ اس ضمن میں امدادی حکام اور اسرائیل کے عسکری فیصلہ سازوں کے مابین بہتر اور براہ راست روابط کی موجودگی ضروری ہے۔
مغربی کنارے میں تشدد
انتونیو گوتیرش نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تباہ کن حالات کا تذکرہ بھی کیا جہاں 7 اکتوبر کے بعد 112 بچوں سمیت 450 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصہ کے دوران مغربی کنارے اور اسرائیل میں ایک بچے سمیت سات اسرائیلیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مغربی کنارے میں 14 سالہ اسرائیلی لڑکے کی ہلاکت کے بعد 37 فلسطینی دیہاتوں کو مسلح آباد کاروں کے حملوں کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ ان واقعات میں 17 سالہ بچے سمیت چار فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس ہولناک تشدد میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے خلاف فلسطینی علاقوں میں اپنی آبادیوں کو متواتر توسیع دے رہا ہے۔
انہوں نے اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے، ان واقعات کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرے اور فلسطینی آبادی کو حملوں، تشدد اور دھمکیوں سے تحفظ مہیا کرے۔
بلیو لائن اور بحیرہ احمر
سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کے دوران لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر جاری تناؤ سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مابین فائرنگ کے تبادلے سے سرحد کے دونوں جانب شہری آبادی کا نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ ان واقعات میں اب تک درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بحیرہ احمر کے بحران کی جانب بھی توجہ دلائی جہاں یمن کے حوثی باغی تجارتی بحری جہازوں پر حملے کر کے عالمگیر تجارت میں خلل پیدا کر رہے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اہم سمندری گزرگاہوں میں عسکری کارروائیوں سے تجارتی ترسیل کے نظام کو خطرات لاحق ہیں۔ تجارتی یا تیل بردار بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے سے ماحولیاتی تباہی کا خطرہ ہے اور یہ کارروائیاں بڑی طاقتوں کے مابین سنگین نوعیت کی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہیں جن کے خوفناک سیاسی، معاشی اور انسانی نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بحیرہ احمر میں کشیدگی کو روکنے کے لیے متحد ہو اور یمن کے لوگوں کو منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے کوششوں میں تعاون مہیا کیا جائے۔