لیبیا کے رہنماء ذاتی کی بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دیں، یو این نمائندہ
شمالی افریقہ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے عبدالائے بیتھلے نے کہا ہے کہ لیبیا کے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے ادارے کی کوششوں کو قومی و علاقائی سطح پر حائل رکاوٹوں کے باعث ناکامی کا سامنا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ سیاسی بات چیت کو آگے بڑھانے اور سیاست دانوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے جواب میں ہٹ دھرم مزاحمت، نامعقول توقعات اور بے حسی دیکھنے کو ملی ہے۔ بااختیار لوگ اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں اور انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کی جا رہی ہے جو مایوس کن ہے۔
انہوں نے ملکی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ذاتی مفادات پس پشت ڈال کر بات چیت اور سمجھوتے کے ذریعے سیاسی تصفیہ عمل میں لائیں۔ لیبیا کے 28 لاکھ رجسٹرڈ رائے دہندگان کی خواہشات کو چند افراد کے محدود مفادات کی نذر ہونے نہیں دیا جا سکتا۔
عبدالائے بیتھلے لیبیا میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سربراہ بھی ہیں۔ تاہم سلامتی کونسل میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے سیکرٹری جنرل کو اپنا استعفیٰ جمع کرا دیا ہے۔
سیاسی اختلافات
خصوصی نمائندے نے سلامتی کونسل میں سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا کی اعلیٰ سطحی ریاستی کونسل کے صدر محمد تکالہ، قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم عبدالحامد دبیبہ، ایوان نمائندگان کے سپیکر عقیلہ صالح، ایل این اے کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر اور صدارتی کونسل کے سربراہ محمد المنفی نے اپنی پیشگی شرائط سے پیچھے ہٹنے اور مذاکرات میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔
لیبیا کی سیاست کے ان اہم کرداروں کے ساتھ متواتر اور جامع گفت و شنید کے باجود ان کی ہٹ دھرمی سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ مہینے قاہرہ میں ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس کے بعد المنفی، صالح اور تکالہ کے مابین معاہدے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں شریک ہونے والے رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت سے کئی طرح کے مفاہیم برآمد ہوئے اور اس کی تمام تفصیلات بھی مہیا نہیں ہو سکیں۔ علاوہ ازیں، جن رہنماؤں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی وہ اس میں ہونے والے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے۔
بگڑتے معاشی حالات
خصوصی نمائندے نے بتایا کہ ملک میں معاشی حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور مرکزی بینک نے مالی وسائل کے متوقع بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ غیرملکی زرمبادلہ پر عارضی سرچارج کے نفاذ، ملکی دینار کی قدر میں متواتر کمی اور غیرملکی کرنسیوں تک محدود رسائی کے باعث لوگوں میں غصہ بڑھ رہا ہے جبکہ ضروری اشیا اور خدمات بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔
انہوں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ قومی بجٹ پر اتفاق رائے پیداکریں اور ریاستی وسائل کو بہتر طریقے سے سنبھالیں۔ انہیں ناصرف اس مسئلے کی علامات بلکہ نقصان دہ معاشی و مالیاتی اقدامات کی بنیادی وجوہات سے بھی نمٹنا ہو گا۔
سلامتی کا بحران
خصوصی نمائندے نے طرابلس اور مسراتہ جیسے بڑے شہروں سمیت ملک بھر میں سلامتی کے کڑے حالات کا تذکرہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کے دارالحکومت میں مسلح کرداروں اور بھاری ہتھیاروں کی موجودگی سے شہری آبادی کے تحفظ کو خطرہ لاحق ہے۔ ملک میں کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ہمسایہ ملک چاڈ، نیجر اور سوڈان سمیت پورا خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا۔
انہوں نے ملک میں تارکین وطن کی حالت زار اور لوگوں کے اغوا، گمشدگیوں اور ناجائز حراستوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں۔