انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نائیجریا: چیبوک لڑکیوں کے اغواء کے دس سال، 90 تاحال مغوی

نائجیریا کے صوبہ بورنو کے قصبے چیبوک سے دس سال قبل 276 طالبات کو اغوا کیا گیا تھا جن میں سے 90 تاحال واپس نہیں آ سکیں۔
Photo: UNICEF Nigeria
نائجیریا کے صوبہ بورنو کے قصبے چیبوک سے دس سال قبل 276 طالبات کو اغوا کیا گیا تھا جن میں سے 90 تاحال واپس نہیں آ سکیں۔

نائیجریا: چیبوک لڑکیوں کے اغواء کے دس سال، 90 تاحال مغوی

خواتین

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے نائجیریا سے کہا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کی کوششوں کو مزید بہتر بنائے اور انہیں محفوظ ماحول میں تعلیم کی فراہمی کے اقدامات میں اضافہ کرے۔

ملک میں یونیسف کی نمائندہ کرسٹین مونڈیٹ کا کہنا ہے کہ نائجیریا کو سکولوں کے مضبوط نظام، بچوں کو تشدد، قدرتی آفات اور مسلح تنازعات سے تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

Tweet URL

انہوں نے یہ بات ملک کے شمال مشرقی صوبہ بورنو کے قصبے چیبوک میں سکول کی طالبات کے اغوا کو 10 سال مکمل ہونے پر کہی ہے۔ اس واقعے میں 276 طالبات کو اغوا کیا گیا تھا جن میں سے 90 تاحال واپس نہیں آ سکیں۔ علاوہ ازیں، گزشتہ مہینے ریاست کاڈونا میں بھی سکول کے بچوں کے اغوا کا واقعہ پیش آیا ہے۔ 

یونیسف کی نمائندہ کا کہنا ہے کہ چیبوک کی طالبات کا اغوا دوران تعلیم بچوں کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں ایسے مزید واقعات سامنے آنے کے بعد بچوں کے مستقبل کو تحفط دینے کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ 

محفوظ تعلیمی ماحول کی ضرورت

یونیسف نے 'محفوظ سکولوں کے لیے کم از کم معیارات' (ایم ایس ایس ایس) سے متعلق رپورٹ میں بتایا ہے کہ نائجیریا کی 10 ریاستوں میں صرف 37 فیصد سکولوں میں ہی کسی حملے سے بروقت آگاہی دینے کا نظام موجود ہے۔

کرسٹین مونڈیٹ کا کہنا ہے کہ اس بحران کی ناصرف علامات بلکہ بنیادی وجوہات پر قابو پانے کی بھی ضرورت ہے۔ تعلیم ایک بنیادی حق اور غربت سے نکلنے کا اہم راستہ ہے۔ تاہم آج بھی نائجیریا میں بہت سے بچوں کے لیے یہ حق ناقابل حصول ہے۔ 

یونیسف نے حکومتوں، شراکت داروں اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تمام بچوں کی محفوظ ماحول میں تعلیم یقینی بنانے میں مدد دیں۔ 

ادارے نے نائجیریا میں سکولوں کو محفوظ بنانے کے ضابطوں پر عملدرآمد کے لیے مالی وسائل، حفاظتی سازوسامان، تربیت، اور آگاہی فراہم کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ چیبوک کے واقعے کو تبدیلی کا محرک ہونا چاہیے تاکہ تعلیمی اداروں اور لوگوں کے مابین اعتماد بحال ہو اور سکولوں کو حقیقی طور سے سیکھنے اور ترقی کے مراکز بنایا جا سکے۔