انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن کی بدحالی مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کی غماز، ہینز گرنڈ برگ

یمن کی خانہ جنگی میں بے گھر ہونے والے لوگ انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں رہ رہے ہیں۔
© IOM/Rami Ibrahim
یمن کی خانہ جنگی میں بے گھر ہونے والے لوگ انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں رہ رہے ہیں۔

یمن کی بدحالی مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کی غماز، ہینز گرنڈ برگ

امن اور سلامتی

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈ برگ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کو درپیش بحران سے ملک کے نازک حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔

سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یمن مشرق وسطیٰ کی ارضی سیاسی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ ملک میں قیام امن کے موقع کو خطے میں جاری کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Tweet URL

اگر یمن میں سیاسی عمل کو نظرانداز کر دیا گیا اور خطے میں موجودہ تناؤ برقرار رہا تو اس کے نتائج ناصرف یمن بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے تباہ کن ہوں گے۔

یمن کے بگڑتے حالات

گرنڈ برگ کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی کے باعث یمن کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ خطے کو اعتماد کے قیام، باہمی سلامتی اور دوسروں کی قیمت پر فتح کے حصول کی ذہنیت ترک کر کے عالمی برادری کے تعاون سے پرامن بقائے باہمی کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ یمن کے حالات بدستور نازک ہیں جہاں حوثی باغی (انصاراللہ) بحیرہ احمر میں تجارتی اور جنگی بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں جبکہ امریکہ اور برطانیہ یمن میں حدیدہ، حجاج، صنعا اور طائز میں اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ 

معاشی نظام کی تباہی

ہینز گرنڈبرگ نے ماہ رمضان میں مفاہمت کے مواقع سے فائدہ نہ اٹھائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں متحارب فریقین رمضان میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کرتے تھے لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا۔ قیدی بدستور تحویل میں ہیں اور خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ 

خصوصی نمائندے نے کہا کہ یہ بات پریشان کن ہے کہ اختلافات میں کمی لانے اور اعتماد کی بحالی کے بجائے فریقین میں مخالفت بڑھتی جا رہی ہے اور یکطرفہ اقدامات سے معاشی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ ہے۔

لاکھوں زندگیوں کو خطرہ

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کی ڈائریکٹر ایڈم وسورنو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ تحفظ اور سلامتی کے طویل بحران کے باعث یمن میں انسانی حالات دگرگوں ہیں۔ ہیضے کی وبا دوبارہ پھیل رہی ہے اور بہت بڑی آبادی کو بڑھتی ہوئی غذائی قلت کا سامنا ہے۔ 

نئی فصل آنے سے پہلے کے موسم میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ میں اضافے کا خدشہ ہے جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ مقامی سطح پر امدادی اقدامات سے عارضی مدد ہی ممکن ہے۔ بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے کے لیے پائیدار امداد کی فراہمی ضروری ہے تاہم رواں سال کے لیے درکار وسائل اور اب تک حاصل ہونے والی مدد کے مابین بہت بڑے فرق کے باعث اس مقصد کی تکمیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ 

انہوں نے بتایا ہے کہ اب تک ان وسائل کا 10 فیصد ہی مہیا ہو پایا ہے۔ خواتین، لڑکیوں، بے گھر افراد اور پسماندہ سماجی گروہوں کا اپنی بقا کے لیے انسانی امداد پر انحصار ہے جن کی زندگی کو تحفظ دینے کے لیے اس فرق کو ختم کرنے کے فوری اقدامات اٹھانا ہوں گے۔