سوڈان: عام لوگوں کو خانہ جنگی میں دھکیلنے پر تُرک کو تشویش
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کی جانب سے شہریوں کو مسلح کرنے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لوگوں کی تکالیف اور اموات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
ہائی کمشنر نے سوڈان کے بگڑتے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور شمالی ڈارفر کے علاقے الفشر میں لڑائی چھڑنے کا خطرہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک سال سے جاری خانہ جنگی میں شہریوں کو ناقابل بیان تکالیف کا سامنا ہے۔ گنجان آبادیوں پر اندھا دھند حملے ہو رہے ہیں، لوگوں کو نسلی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور شہریوں پر جنسی تشدد عام ہو گیا ہے۔ متحارب فریقین بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کر رہے ہیں جو بے حد تشویشناک ہے۔
حالیہ دنوں ملک میں تین مسلح گروہوں نے 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کے خلاف جنگ میں سوڈان کی مسلح افواج کا ساتھ دینے اور لڑائی کے لیے شہریوں کو مسلح کرنے کا اعلان کیا ہے۔15 اپریل 2023 کو ملک میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث 80 لاکھ لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان میں کم از کم 20 لاکھ افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔
دریں اثنا، سوڈان کے لیے عطیہ دہندگان کی بین الاقوامی کانفرنس آج پیرس میں شروع ہو گئی ہے۔ اس موقع پر جنگ زدہ ملک میں بھوک کا شکار لاکھوں لوگوں کو غذائی مدد کی فراہمی سے متعلق امور زیربحث آئیں گے۔
غذائی قلت سے اموات کا خطرہ
ہائی کمشنر نے بتایا ہے کہ سوڈان میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کو شدید درجے کی غذائی قلت کا سامنا ہے جن میں بچوں کی تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ ہے۔ ملک میں 70 فیصد ہسپتال غیرفعال ہو چکے ہیں اور متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے انہی خدشات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں 89 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں 49 لاکھ کو ہنگامی درجے کی بھوک کا سامنا ہے۔ رواں برس پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 لاکھ بچوں کے شدید غذائی قلت سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن میں 730,000 کو درپیش حالات ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
جنگ کے باعث ملک میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم اور صاف پانی تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس طرح بڑے پیمانے پر یرقان، خسرہ، ملیریا اور ڈینگی کے پھیلاؤ سے ہزاروں بچوں کی صحت و زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔اندرون ملک بے گھر ہونے والے بچوں کی شرح اموات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ نئی فصل کی کٹائی سے پہلے کے عرصہ میں خوراک کی قلت کے باعث بڑے پیمانے پر اموات کا خدشہ ہے۔
ادارے کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چائیبان نے بتایا ہے کہ شدید غذائی قلت سے متاثرہ تقریباً نصف بچوں کا تعلق ایسے علاقوں سے ہے جہاں جنگ جاری ہے اور وہاں رسائی آسان نہیں۔ تاہم، اگر تمام فریقین امدادی اداروں کو ضرورت مند لوگوں تک رسائی دیں تو ان تمام مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
سماجی خدمات کی تباہی
وولکر تُرک نے بظاہر غیرمصدقہ الزامات پر سابق وزیراعظم عبداللہ ہمدوک اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے احکامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں ںے ملکی حکام سے یہ احکامات واپس لینے اور تنازع کے جامع حل اور سویلین حکومت کی بحالی کے لیے پہلے قدم کے طور پر جنگ بندی کی خاطر اعتماد کی بحالی کے لیے کہا ہے۔
یونیسف کا کہنا ہے کہ ملک میں بنیادی نظام اور سماجی خدمات تباہی کے دہانے پر ہیں۔ نچلی سطح پر کام کرنے والے عملے کو ایک سال سے اجرتوں کی ادائیگی نہیں ہو سکی، اہم اشیا کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ جنگی کارروائیوں میں ہسپتالوں اور سکولوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تعلیمی نظام درہم برہم
ہنگامی حالات میں تعلیم کے لیے عالمی فنڈ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' نے بتایا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 80 لاکھ لوگوں میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے۔ اس تنازع میں اب تک 14 ہزار سے زیادہ بچے، خواتین اور مرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر یاسمین شریف نے سوڈان کو درپیش دنیا کے بدترین تعلیمی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں سکول جانے والے ایک کروڑ 90 لاکھ بچوں میں سے 90 فیصد رسمی تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ملک بھر میں بیشتر سکول بند ہو گئے ہیں یا انہیں دوبارہ تدریس شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یاسمین شریف کا کہنا ہے کہ فنڈ نے سوڈان کے بحران سے متاثرہ بچوں اور وسطی جمہوریہ افریقہ، چاڈ، مصر، ایتھوپیا اور جنوبی سوڈان میں پناہ لینے والوں کی تعلیمی ضروریات کے لیے چار کروڑ ڈالر فراہم کیے ہیں۔ تاہم، عالمی برادری نے مزید مدد فراہم نہ کی تو یہ تباہی بہت جلد پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے اور ہمسایہ ممالک پر بھی اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔