انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل پر ایران کے حملے کی یو این چیف کی طرف سے مذمت

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
UN Photo/Mark Garten
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

اسرائیل پر ایران کے حملے کی یو این چیف کی طرف سے مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اسرائیل پر ایران کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دنیا ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

سیکرٹری جنرل نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تباہ کن کشیدگی کو فوری طور پر روکیں جس کے پورے خطے میں پھیلنے کا حقیقی خطرہ موجودہ ہے۔

Tweet URL

اطلاعات کے مطابق ہفتے کی شام ایران کی جانب سے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرون اور میزائل داغے گئے تھے۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ شام میں اپنے قونصل خانے پر اسرائیل کے حملے کا بدلہ لے گا۔ یکم اپریل کو دمشق میں ہونے والی اس کارروائی میں ایران کے دو جرنیلوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں تناؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد غزہ پر اسرائیل کی فضائی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں 32 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

اسرائیل پر ایران کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لیے آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔ 

دانشمندی اختیار کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

ایک بیان میں انہوں نےکہا ہے کہ ایران نے اپنی اس کارروائی کو دمشق میں اپنے سفارتی دفتر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت جائز قرار دیا ہے۔ 

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ایران کے اس ردعمل نے مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کی نازک صورتحال کو اور بھی گھمبیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کے اقدامات سے پرہیز کریں۔ 

ڈینس فرانسس کا کہنا ہے کہ یہ وقت دانشمندانہ فیصلوں کا تقاضا کرتا ہے جن میں خدشات کا بالاحتیاط جائزہ لینا ضروری ہے۔ توقع ہےکہ ایران کے حکام اپنے اس قول کا پاس کریں گے کہ ان کی حالیہ کارروائی کے بعد یہ معاملہ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے بات چیت اور سفارت کاری کو اختلافات حل کرنے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حملوں اور جوابی حملوں کے سلسلے سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا اور اس سے مزید اموات اور تکالیف ہی جنم لیں گی۔