انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ہیٹی میں سیاسی قیادت کے چناؤ کے لیے عبوری کونسل کا خیرمقدم

ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ اوپرنس میں ایک ایمبولینس پر مسلح جتھوں کے حملے کی زد میں آنے کے بعد۔
© UNOCHA/Giles Clarke
ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ اوپرنس میں ایک ایمبولینس پر مسلح جتھوں کے حملے کی زد میں آنے کے بعد۔

ہیٹی میں سیاسی قیادت کے چناؤ کے لیے عبوری کونسل کا خیرمقدم

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غرب الہند کے بحران زدہ ملک ہیٹی میں نئی سیاسی قیادت کے چناؤ اور عام انتخابات کے انعقاد کے لیے عبوری صدارتی کونسل کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔

اپنے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے 12 اپریل کو کونسل کے قیام کے حکم نامے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ کونسل ہیٹی میں آئندہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا انتخاب کرے گی۔

Tweet URL

انہوں نے ہیٹی کے مسئلے کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ عبوری وزیراعظم، حکومت اور انتخابی کونسل کے ارکان کی بروقت نامزدگی کے لیے پیش رفت جاری رکھیں۔ 

کثیرملکی مشن سے تعاون کی اپیل

سیکرٹری جنرل نے عبوری صدارتی کونسل کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے ملکی بحران کے حل کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ یہ کونسل ہیٹی میں امن و امان کے قیام کے لیے کثیرملکی مشن (ایم ایس ایس) کی تعیناتی کا عمل تیز کرنے کے لیے عالمی برادری کے تمام ارکان کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ برس ہیٹی میں اس مشن کے قیام کی منظوری دی تھی۔ 

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ 'ایم ایس ایس' کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں۔

ہیٹی میں سیاسی خلا پیدا ہونے کے بعد مسلح گروہ دو ماہ سے پولیس سٹیشنوں، قید خانوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر منظم حملے کر رہے ہیں جبکہ دارالحکومت پورٹ او پرنس اور اس کے گردونواح میں بیشتر علاقوں پر مسلح جتھوں کا تسلط ہے۔ ان واقعات کے بعد مارچ میں وزیراعطم ایریل ہنری اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ 

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ملک میں تشدد سے متاثرہ لوگون کو مدد دینے میں مصروف ہیں۔ حالیہ دنوں عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے پورٹ او پرنس میں بے گھر ہونے والے لوگوں میں 19 ہزار اور دیگر صوبوں میں سکول کے بچوں میں دو لاکھ کھانے تقسیم کیے تھے۔