انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار: سیاسی بحران اور معاشی بدحالی میں متوسط طبقہ معدومیت کا شکار

میانمار میں جاری سیاسی بحران، قدرتی آفات، اور کووڈ۔19 وباء کے اثرات نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے لاکھڑا کیا ہے۔
© UNICEF/Naing Lin Soe
میانمار میں جاری سیاسی بحران، قدرتی آفات، اور کووڈ۔19 وباء کے اثرات نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے لاکھڑا کیا ہے۔

میانمار: سیاسی بحران اور معاشی بدحالی میں متوسط طبقہ معدومیت کا شکار

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار میانمار میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عدم تحفظ و مسلح تنازع میں شدت آنے کے ساتھ متوسط طبقے کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔

ادارے کی شائع کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 میں فوج کے برسراقتدار آنے سے پہلے کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو آج میانمار میں متوسط طبقہ نصف حد تک سکڑ چکا ہے۔ ملک میں تین چوتھائی آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے یا اس کے دھانے پر کھڑی ہے۔

Tweet URL

'یو این ڈی پی' کے جائزے کے مطابق بڑھتی ہوئی غربت پر قابو پانے کے لیے سالانہ چار ارب ڈالر درکار ہیں تاکہ لوگوں کو معاشی بدحالی سے تحفظ ملے جبکہ ملک میں معاشی گراوٹ کا دورہ دورہ ہے اور بحالی کے امکانات بہت محدود ہیں۔ 

ادارے کے منتظم ایکم سٹینر نے کہا ہے کہ لوگوں کو نقد امداد، غذائی تحفظ اور بنیادی خدمات فراہم کیے بغیر حالات مزید خراب ہوتے رہیں گے جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اندرون و بیرون ملک اس تنازع کے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ شدید غربت کا شکار گھرانوں کو ناقابل تلافی حالات اور مایوسی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

تعلیم کا نقصان

ایشیا اور الکاہل کے لیے 'یو این ڈی پی' کی ریجنل ڈائریکٹر کینی وگناراجا نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر (نیویارک) میں صحافیوں کو ملک کے سنگین معاشی حالات سے آگاہ کیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ کووڈ وبا کے دوران تعلیم پر اخراجات اوسط گھریلو آمدنی کے دو سے تین فیصد کے برابر تھے جو اب صفر ہو چکے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا رہے ہیں اور طبی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات پر خرچ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ ایک پوری نسل کو تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محرومی کا سامنا ہے جو کہ نہایت خوفناک بات ہے۔

مخدوش علاقائی حالات

رپورٹ میں صوبائی سطح پر تشویشناک حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کیاہ، چن اور ساگینگ ریاستوں میں فی کس آمدنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور بہت سے علاقوں میں حکومتی فوج اور مسلح باغی گروہوں کے مابین شدید لڑائی جاری ہے۔ 

اس تنازع میں لوگوں کے گھر تباہ ہو رہے ہیں، زرعی اراضی تک ان کی رسائی محدود ہو گئی ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ اندرون ملک نقل مکانی کر رہے ہیں جس سے معاشی حالات میں مزید بگاڑ آیا ہے۔ 

انہوں نے بتایا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک بے گھر ہونے والے لوگ تحفظ اور بنیادی خدمات کی خاطر یانگون اور منڈالے جیسے بڑے شہروں میں آ رہے تھے لیکن اب انہیں وہاں بھی تحفظ میسر نہیں رہا۔

میانمار کے علاقے مشرقی شان میں ایک کسان اپنی پوست کی فصل کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
© UNODC
میانمار کے علاقے مشرقی شان میں ایک کسان اپنی پوست کی فصل کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

منظم جرائم کا پھیلاؤ

انہوں نے ملک میں تیزی سے بڑھتی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ میانمار دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ وہاں منظم جرائم خصوصاً 'دھوکہ دہی کے مراکز' بھی فروغ پا رہے ہیں۔ 

بڑے پیمانے پر ہونے والی ان غیرقانونی سرگرمیوں کا قلع قمع نہ کیا گیا تو ملک میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی ثالثی شروع نہیں کی جا سکتی۔