سوڈان: خوف کی فضاء میں 85 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ ایک سال پہلے سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی چھڑنے کے بعد اب تک 85 لاکھ شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ادارے کی ترجمان اولگا ساراڈو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ بے گھر ہونے والوں میں 18 لاکھ لوگوں نے ہمسایہ ملک جنوبی سوڈان، چاڈ، وسطی جمہوریہ افریقہ، مصر، ایتھوپیا اور یوگنڈا میں پناہ لے رکھی ہے۔ ان کے علاوہ مزید ہزاروں لوگ زندگی کے تحفظ کی خاطر سرحد پار کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے مابین جنگ نے لوگوں کی زندگی درہم برہم کردی ہے اور وہ خوف و نقصان سے دوچار ہیں۔
شہری متوسط طبقے کا خاتمہ
ترجمان نے بتایا کہ اس لڑائی میں 13 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں لوگوں زخمی ہیں۔ شہریوں پر حملے اور دوران جنگ جنسی و دیگر تشدد عام ہے۔ تنازع میں ملک کا شہری متوسط طبقہ تباہ ہو چکا ہے۔ ڈاکٹروں، اساتذہ، نرسوں، انجینئروں اور طلبہ نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔
آمدنی کی غیرموجودگی، امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں اور زرعی پیداوار کے نقصان کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت کے مطابق خوراک میسر نہیں ہے۔ ایسے حالات میں ملک کے بہت سے حصوں میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت اور بھوک پھیلنے کی بابت خبردار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوڈان میں بنیادی ضروریات اور خدمات تک لوگوں کی رسائی محدود ہو گئی ہے، سلامتی کے خدشات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور انتظامی مشکلات امدادی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
بیرون ملک سوڈانی پناہ گزین
ترجمان نے بتایا کہ بیرون ملک ہجرت کرنے والے بیشتر سوڈانی شہریوں نے جنوبی سوڈان کا رخ کیا ہے جن کی تعداد تقریباً 640,000 ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ اوسطاً 1,800 مزید لوگ بھی سرحد پار جا رہے ہیں۔ اس طرح جنوبی سوڈان میں بنیادی ڈھانچے پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے اور امدادی ضروریات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
چاڈ میں آنے والے سوڈانی پناہ گزینوں کی تعداد 560,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ 'یو این ایچ سی آر' اور اس کے امدادی شراکت داروں نے ایسے بیشتر لوگوں کو نئی اور وسیع آبادیوں میں منتقل کیا ہے۔ تاہم ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ اب بھی سرحدی علاقوں میں قائم گنجان پناہ گزین بستیوں میں مقیم ہیں جہاں وسائل کی قلت کے باعث صحت و صفائی کی سہولیات کا فقدان ہے۔
ایتھوپیا میں سوڈانی پناہ گزینوں کی آمد جاری ہے جہاں حالیہ دنوں ان کی تعداد 50 ہزار سے تجاویز کر گئی ہے جبکہ اس ملک نے پہلے ہی افریقہ میں سب سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو پناہ دے رکھی ہے۔
نفسیاتی مدد کی ضرورت
ترجمان نے بتایا کہ ملک میں خواتین اور بچوں کی حالت خاص طور پر تشویشناک ہے جنہیں سرحد پار خوراک، پانی، پناہ اور طبی مدد کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے خاندانوں کے ارکان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں اور پریشانی کے عالم میں پناہ گزین کیمپوں میں پہنچتے ہیں۔
ان میں بیشتر والدین اور بچوں نے ہولناک تشدد دیکھا ہے جس کی وجہ سے انہیں نفسیاتی مدد کی فراہمی بہت ضروری ہو گئی ہے۔
امدادی وسائل کی قلت
اولگا ساراڈو نے خبردار کیا کہ اس بحران کے حجم اور وسعت کے مقابلے میں دستیاب امدادی وسائل بہت کم ہیں۔ رواں سال خطے میں سوڈانی پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار مالی وسائل میں سے اب تک 7 فیصد ہی مہیا ہو پائے ہیں جبکہ اندرون ملک 6 فیصد ضروریات کے لیے وسائل ہی دستیاب ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے سوڈان اور اس کے شہریوں کو پناہ دینے والے ممالک کی مدد کے لیے ٹھوس عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ جنگ سے جان بچا کر آنے والے لوگ باوقار زندگی گزار سکیں۔