ہیپاٹائٹس سے روزانہ ہزاروں ہلاکتیں ہو رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا میں وبائی ہیپاٹائٹس سے روزانہ 3,500 اموات ہو رہی ہیں اور یہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث بننے والا دوسرا بڑا متعدی مرض بن چکا ہے۔
ادارے کی جانب سے ہیپاٹائٹس کی تازہ ترین صورتحال پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یہ بیماری ہر سال 13 لاکھ جانیں لیتی ہے اور اموات کی یہ شرح تپ دق سے ہونے والے جانی نقصان کے مساوی ہے۔ یہ رپورٹ پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں آج شروع ہونے والی سہ روزہ 'عالمی زیابیطس کانفرنس' کے موقع پر جاری کی گئی ہے۔
اس موقع پر ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی صورتحال پریشان کن ہے۔ بیماری کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود اس سے ہونے والی اموات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت کم لوگوں میں اس بیماری کی بروقت تشخیص ہو پاتی ہے اور تاحال اس کے علاج تک رسائی کی شرح بھی بہت کم ہے۔
ہیپاٹائٹس اور 2030 کا ہدف
ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب ہیپاٹائٹس کی تشخیص اور علاج کے بہتر ذرائع دستیاب ہیں اور اس کے لیے درکار ادویات اور طبی سازوسامان کی قیمتوں میں بھی کمی آ رہی ہے، تاہم مطلوبہ نتائج کے حصول کی جانب پیش رفت تاحال سست رو ہے۔ ان حالات کے باوجود اگر فوری اقدامات کیے جائیں تو 2030 تک اس مرض کے خاتمے سے متعلق 'ڈبلیو ایچ او' کا ہدف قابل رسائی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' ممالک کو اس بیماری پر باآسانی قابو پانے اور زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر طرح کے تعاون پر تیار ہے۔
اموات میں اضافہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ ہیپاٹائٹس کے 6,000 نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ 187 ممالک سے حاصل ہونے والی نئی معلومات کے مطابق 2019 میں وبائی ہیپاٹائٹس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد 11 لاکھ تھی جو 2022 میں 13 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان میں 83 فیصد ہیپاٹائٹس بی اور 17 فیصد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہوئے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق، 2022 میں 25 کروڑ 40 لاکھ لوگوں کو ہیپا ٹائٹس بی اور پانچ کروڑ کو ہیپاٹائٹس سی لاحق تھا۔ ان میں نصف لوگوں کی عمر 30 اور 54 سال کے درمیان جبکہ بچوں کی تعداد 12 فیصد تھی۔ صنفی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس بیماری سے متاثرہ 58 فیصد افراد مرد تھے۔
تشخیص اور علاج کا فقدان
وبائی ہیپاٹائٹس کی صورتحال ہر خطے میں ایک سی نہیں ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' کے افریقی ریجن میں 63 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس بی سے متاثر ہوئے جبکہ خطے میں صرف 18 فیصد نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کی ویکسین دی جا سکی۔
مغربی الکاہل خطے میں ہیپاٹائٹس بی سے ہونے والی اموات کی شرح 47 فیصد رہی اور جن لوگوں میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی ان میں 23 فیصد کو ہی علاج میسر آ سکا جو کہ اموات میں کمی لانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہیپاٹائٹس کی سستی ادویات دستیاب ہونے کے باوجود بہت سے ممالک کم قیمت پر بھی انہیں خریدنے میں ناکام ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شدید نوعیت کے ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا صرف 13 فیصد لوگوں میں ہی اس بیماری کی بروقت تشخیص ہو سکی اور 2022 کے آخر تک تقریباً تین فیصد یا 70 لاکھ لوگوں کو اس کا موثر علاج میسر آیا۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت 2030 تک دنیا میں ایسے 80 فیصد لوگوں کو اس بیماری کے علاج تک رسائی ہونی چاہیے۔
'ڈبلیو ایچ او' کی سفارشات
رپورٹ میں وبائی ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ روکنے اور 2030 تک اس مرض پر قابو کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ان میں طبی معائنے اور تشخیص تک رسائی میں اضافے، ابتدائی درجے پر بیماری کی روک تھام کے اقدامات میں بہتری لانے اور علاج معالجے کی خدمات مساوی طور پر فراہم کرنے کی پالیسیاں تشکیل دینے سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔
تاہم، ادارے کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مالی وسائل کی قلت درپیش ہے جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ سستے علاج اور طبی ذرائع کے حوالے سے آگاہی کا فقدان اور دیگر طبی ترجیحات کی موجودگی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
رپورٹ میں ممالک کو طبی خدمات کی فراہمی میں عدم مساوات پر قابو پانے اور علاج معالجے کے سستے ذرائع تک رسائی سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔