انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یو این رکنیت کی فلسطینی درخواست خصوصی کمیٹی کے حوالے

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر پر فلسطین کا جھنڈا لہرایا جا رہا ہے۔
UN Photo/Jean Marc Ferré
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر پر فلسطین کا جھنڈا لہرایا جا رہا ہے۔

یو این رکنیت کی فلسطینی درخواست خصوصی کمیٹی کے حوالے

اقوام متحدہ کے امور

سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے فلسطینی مبصر ریاست کی درخواست جائزے کے لیے خصوصی کمیٹی کے سپرد کر دی ہے۔

درخواست کو کمیٹی کے حوالے کرنے کی تجویز رواں ماہ کونسل کے صدر مالٹا کی سفیر وینیسا فریزر نے پیش کی تھی جس پر 15 رکنی کونسل میں کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا۔

اس موقع پر وینیسا فریزر نے تجویز کیا کہ نئے ارکان کو اقوام متحدہ کی رکنیت دینے والی کمیٹی کا اجلاس سہ پہر تین بجے بلایا جائے جس میں اس درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایسے اجلاس عام طور پر بند کمرے میں ہوتے ہیں تاہم کمیٹی چاہے تو کسی معاملے پر کھلی بحث بھی ہو سکتی ہے۔ 

نئی رکنیت کا طریقہ کار

درخواست کو کمیٹی کے سپرد کیے جانے سے قبل کونسل نے فلسطین کی درخواست پر علیحدگی میں بات چیت کی۔ فلسطین کی جانب سے یہ درخواست 23 ستمبر 2011 میں جمع کرائی گئی تھی۔ چند روز قبل فلسطینی وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں اس کے مستقل نمائندے ریاض منصور نے اس کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کونسل کو تحریری طور پر لکھا تھا۔ 

اس وقت فلسطین کو اقوام متحدہ میں روم کے کیتھولک چرچ (ہولی سی) کی طرح غیررکن مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے۔

اقوام متحدہ میں شمولیت کی کوئی نئی درخواست سب سے پہلے سلامتی کونسل میں پیش کی جاتی ہے جو اسے 193 رکنی جنرل اسمبلی کو بھیجتی ہے جس کی جانب سے قرارداد کے ذریعے منظوری ملنے کے بعد متعلقہ ملک اقوام متحدہ کا رکن بن جاتا ہے۔ 

سلامتی کونسل کا کردار

سلامتی کونسل اپنے قوانین کے تحت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ آیا درخواست گزار ملک امن قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور کیا وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتا ہے اور کیا اسے رکنیت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ 

اگر سلامتی کونسل اس ملک کو رکنیت دینے کی سفارش کرتی ہے تو اسے کونسل کے بحث و مباحثے کی تمام تر تفصیلات سمیت جنرل اسمبلی کو بھیج دیا جاتا ہے۔ 

اس سے برعکس، اگر سلامتی کونسل اس ملک کو رکنیت دینے کی مخالفت کرے یا اپنا فیصلہ ملتوی کر دے تو وہ اپنے بحث مباحثے کے ریکارڈ کی تفصیل کے ساتھ ایک خصوصی رپورٹ اسمبلی کو بھجواتی ہے۔