سوڈان: بھوک کی تباہ کاریاں روکنے کے لیے امداد کی ڈارفر آمد
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک نے بتایا ہے کہ کئی ماہ کے بعد پہلی مرتبہ دو امدادی قافلے سوڈان کی جنگ زدہ ریاست ڈارفر میں پہنچ گئے ہیں۔ اس امداد سے 250,000 لوگوں کو خوراک اور غذائیت میسر آئے گی۔
سوڈان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی ترجمان لینی کنزلی نے کہا ہے کہ یہ امداد چاڈ کے راستے سوڈان بھیجی گئی ہے جو شمال، مغربی اور وسطی ڈارفر میں تقسیم کی جائے گی۔ ملک میں تقریباً ایک سال سے جاری خانہ جنگی میں ڈارفر بری طرح متاثر ہونے والی ریاست ہے جہاں لوگوں کو بڑے پیمانے پر تشدد اور غیرانسانی حالات کا سامنا ہے۔
متواتر مدد کی ضرورت
گزشتہ مہینے 'ڈبلیو ایف پی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مکین نے خبردار کیا تھا کہ اگر جنوبی سوڈان اور چاڈ کی جانب نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو مدد فراہم نہ کی گئی تو سوڈان کی جنگ سے بھوک کا بدترین بحران جنم لے سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے امداد کی بلارکاوٹ فراہمی، امدادی سامان کی تیزرفتار جانچ پڑتال اور بڑے پیمانے پر ضروریات پوری کرنے کی غرض سے امدادی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ پیش رفت خوش آئند ہے تاہم ہمسایہ ممالک سے تمام امدادی راستوں کے ذریعے متواتر مدد کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ بصورت دیگر ملک میں تباہ کن حد تک پھیلی بھوک میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
امدادی قافلوں کے تحفظ کا مطالبہ
لینی کنزلی کے مطابق، اس وقت ڈارفر میں انسانی امداد کی محفوظ اور متواتر فراہمی میں شدید مسائل درپیش ہیں۔سلامتی کے فقدان اور ضرورت مند علاقوں کی جانب امداد بھیجنے کے لیے متحارب فریقین سے اجازت لینے کے طویل عمل کی وجہ سے امداد کی تقسیم تاخیر کا شکار رہتی ہے۔ پورٹ سوڈان میں ملکی فوج کے سربراہ کی جانب سے امدادی قافلوں کو چاڈ کے راستے ڈارفر میں داخلے کی اجازت سے انکار کے بعد صورتحال اور بھی پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ 'ڈبلیو ایف پی' اور اس کے شراکت داروں کو شمالی ڈارفر میں امداد پہنچانے کے لیے سلامتی کی ضمانت اور حملوں سے تحفظ کے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
چھ ماہ میں پہلی امداد
گزشتہ ہفتے 37 ٹرکوں پر 1,300 ٹن امدادی سامان چاڈ کے شہر ادرے سے مغربی ڈارفر میں پہنچایا گیا اور اب یہ امداد مغربی و وسطی ڈارفر میں تقسیم کی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس 'ڈبلیو ایف پی' نے اسی راستے سے ان دونوں علاقوں میں تقریباً دس لاکھ لوگوں کو مدد پہنچائی تھی۔
23 مارچ کو 16 ٹرک چاڈ کے سرحدی راستے ٹینا سے 580 ٹن خوراک لے کر شمالی ڈارفر آئے تھے۔ اس سے چند روز کے بعد پورٹ سوڈان سے چھ ٹرک 260 میٹرک ٹن خوراک لائے جو چھ ماہ میں محاذ جنگ کے آر پار پہنچائی جانے والی پہلی غذائی مدد تھی۔
غنینہ کا بحران
لینی کنزلی کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ 'ڈبلیو ایف پی' ادرے سے مغربی ڈارفر کو جانے والا سرحدی راستہ متواتر استعمال کر پائے گا یا نہیں۔ یہ سوڈان میں شدید ترین غذائی قلت کے شکار اس علاقے میں امداد پہنچانے کے لیے اہم ترین گزرگاہ ہے۔
مغربی ڈارفر کے دارالحکومت غنینہ میں حالات کہیں زیادہ خراب ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں بہت سی خواتین نے امداد کی تقسیم کے ایک مرکز پر دھاوا بول دیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ سال کے دوران خشک موسم میں غنینہ میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت پیدا ہوتی رہی ہے۔اس وقت سوڈان میں ایک کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو شدید درجے کی غذائی قلت کا سامنا ہے۔ عالمی غذائی ماہرین کے مطابق، ڈارفر میں 17 لاکھ لوگ پہلے ہی ہنگامی درجے کی بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نےکہا ہے کہ اگر ادرے سے مغربی ڈارفر میں امداد پہنچانے کا راستہ دستیاب نہ رہا اور بڑے پیمانے پر خوراک فراہم نہ کی جا سکی تو ناقابل تصور مصائب کا سامنا کرنے والے لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔