انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان میں مہنگائی اگلے سال کم ہونے کا امکان، یو این رپورٹ

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں لوگ ایک دوکان پر خریداری کرتے ہوئے (فائل فوٹو)۔
IMF/Saiyna Bashir
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں لوگ ایک دوکان پر خریداری کرتے ہوئے (فائل فوٹو)۔

پاکستان میں مہنگائی اگلے سال کم ہونے کا امکان، یو این رپورٹ

معاشی ترقی

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ پاکستان میں آئندہ برس مہنگائی کم ہونے کا امکان ہے جبکہ معاشی ترقی کے لیے ٹیکس وصولی میں اضافے اور ملکی نظم و نسق میں بہتری لانے کی ضرورت ہو گی۔

2024 میں ایشیا اور الکاہل خطے کے لیے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال مہنگائی کی شرح 26 فیصد رہے گی جو آئندہ برس کم ہو کر 12.2 فیصد پر آنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، رواں سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ترقی کی شرح 2 فیصد اور آئندہ برس 2.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

Tweet URL

گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں معاشی ترقی کی شرح 1.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جو خطے میں سری لنکا کے بعد سب سے کم ہے۔ 

ایشیا اور الکاہل کا معاشی و سماجی جائزہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس موضوع پر رپورٹوں کے اجرا کا طویل ترین سلسلہ ہے جس کا آغاز 1947 سے ہوا تھا۔ اس سے پالیسی سازوں کو موجودہ اور نئے سماجی۔معاشی مسائل کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کی بدولت ممالک کو پالیسی کے حوالے سے درست منصوبہ بندی کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس طرح یہ جائزہ خطے میں مشمولہ اور پائیدار ترقی میں مددگار ہے۔

معاشی بحالی کی کوششیں

جائزے کے مطابق گزشتہ برسوں میں پاکستان کے سیاسی مسائل نے اس کی معیشت کو بھی متاثر کیا جس سے کاروبار اور صارفین خسارے میں رہے۔ علاوہ ازیں، دو سال قبل آنے والے تباہ کن سیلاب سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کے باعث ملکی معیشت بڑے پیمانے پر گراوٹ کا شکار ہوئی۔ 

ان حالات میں گزشتہ برس سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کی مالی مدد سے ملک میں کسی حد تک معاشی استحکام بحال ہوا۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے توانائی کے شعبے میں امدادی قیمت کے خاتمے اور مالیاتی نظم و نسق میں بہتری کے اقدامات کی بدولت ملکی معیشت کو درست ڈگر پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی ترقی کے لیے تمام طبقات سے ٹیکس وصولی کو بہتر بنانا ہو گا۔ اس طرح مالیاتی خدشات پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور قرضوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔

ترقی پذیر ممالک کی مشکلات

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا خطے میں سب سے زیادہ تیزرفتار سے ترقی کرنے والی معیشت بن گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں معاشی ترقی کی شرح 6.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ رسمی شعبے میں بیروزگاری کی شرح 12 سال کی کم ترین سطح پر رہی۔ 

بنگلہ دیش میں گزشتہ مالی سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 6 فیصد رہی۔ اس کے بعد ایران میں 4.5 فیصد، بھوٹان میں 4.2 فیصد اور نیپال میں 1.9 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی۔ سری لنکا میں معاشی ترقی کی شرح منفی رہی جو گزشتہ برس 2.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ 

جائزے کے مطابق، ایشیا اور الکاہل خطے کے بہت سے ممالک کو قرضوں پر بھاری سود ادا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر خرچ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو کم شرح سود پر طویل مدت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔

ایشیا اور الکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی جائزے کا مکمل متن یہاں دیکھیے۔