انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مصر ’حلوان بریگیڈ‘ کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دے، ماہرین

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کا ایک فضائی منظر۔
Unsplash/Ahmed Ezzat
مصر کے دارالحکومت قاہرہ کا ایک فضائی منظر۔

مصر ’حلوان بریگیڈ‘ کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دے، ماہرین

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے مصر کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمے میں سات افراد کو سزائے موت دینے کی توثیق پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں زندگی کے حق کی پامالی اور ناجائز ہلاکتوں کے مترادف ہیں کیونکہ ملزموں کو منصفانہ قانونی کارروائی سمیت دیگر حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ موت کی سزا صرف ایسی قانونی کارروائی کے نتیجے میں ہی دی جا سکتی ہے جوانسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہو۔

Tweet URL

سزائے موت پانے والے ان ملزموں کا تعلق مبینہ طور پر حلوان بریگیڈ نامی تنظیم سے ہے جسے مصر کی حکومت نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ 

ماہرین نے مصر پر زور دیا ہے کہ وہ ان سزاؤں پر عملدرآمد کو روکے، ان مقدمات میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں عدالتی کارروائی کا ازسرنو جائزہ لے۔

بین الاقوامی قانون کی پامالی

ماہرین کے مطابق یہ سزائیں تشدد یا ظالمانہ، غیرانسانی اور توہین آمیز سلوک کے مترادف ہو سکتی ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ موت کی سزائیں ایسے الزامات کی بنیاد پر دی گئی ہیں جو مبہم ہیں اور بہت سی ایسی سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں جو لازمی طور سے دہشت گردی کے مترادف نہیں ہو سکتیں۔ ان لوگوں پر عائد الزامات انتہائی سنگین جرائم کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتے۔

ان افراد کو جبری گمشدگیوں، قید تنہائی، تشدد، جبری اعتراف جرم، وکلا اور رشتہ داروں کے ساتھ ملاقاتوں سے محرومی، قبل از مقدمہ طویل قید، دوران قید غیرانسانی حالات اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے روبرو مقدمات کی اجتماعی سماعت جیسے حالات کا سامنا رہا۔ ماہرین نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مصر حقوق کی ان پامالیوں کے غیرجانبدارانہ اور موثر ازالے میں بھی ناکام رہا جس کا بین الاقوامی اور ملکی قانون تقاضا کرتا ہے۔ 

سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ

قبل ازیں اقوام متحدہ کے ماہرین نے مصر سے کہا تھا کہ وہ ان سزاؤں پر عملدرآمد کو معطل کرے کیونکہ دہشت گردی کے ان مقدمات میں منصفانہ قانونی کارروائی یقینی نہ بنائے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔

ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر ایسے مقدمات کے ذریعے انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے قوانین کا منظم طور سے غلط استعمال ہو رہا ہے۔

انہوں نے مصر پر زور دیا کہ وہ شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سفارشات کی روشنی میں سزائے موت کا خاتمہ کرنے پر غور کرے۔