انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام: ایرانی قونصل خانے پر حملہ، یو این کا کشیدگی کم کرنے پر زور

مشرق وسطیٰ، ایشیا اور بحرالکاہل کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری، نیویارک میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس کو بریفنگ دے رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری سلامتی کونسل کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال بارے مطلع کر رہے ہیں۔

شام: ایرانی قونصل خانے پر حملہ، یو این کا کشیدگی کم کرنے پر زور

امن اور سلامتی

قیام امن اور سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو روکنے کے لیے کام کرے۔

انہوں نے کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں تمام فریقین کو تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کونسل کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ فعال طور سے کام کرنا ہو گا۔

Tweet URL

سوموار کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے دو جرنیلوں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران اور شام نے اسرائیل کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ 

سفارتی عملے کے تحفظ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ سفارتی دفاتر اور عملے کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ 

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ایسے حملوں سے باز رہیں جن سے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچے۔ 

خالد خیری کا کہنا تھا کہ ایران نے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خطوط بھیجے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے دمشق میں اس کے سفارتی دفتر پر حملہ کیا ہے جس میں دو اعلیٰ سطحی فوجی مشیروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔ 

اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جن میں ایران کے سات اہلکار اور شام کے چھ شہری شامل ہیں۔

علاقائی سلامتی کے احترام کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن کونسل کو ملک میں 13 سال سے جاری تشدد کے بارے میں متواتر آگاہ کرتے چلے آئے ہیں۔ اس وقت ملک میں چھ ممالک کی افواج سرگرم ہیں جس سے شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے اور مسئلے کا پرامن حل ناقابل رسائی ہوتا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہونا چاہیے۔ عالمی امن و سلامتی کے لیے قوانین کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نظام کی موجودگی ضروری ہے اور اسے قائم رکھنا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔ 

شام پر حملوں میں اضافہ

خالد خیری کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق رواں سال شام میں ایران سے منسلک مبینہ اہداف پر درجن بھر حملے ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل نے ایسے واقعات کی ذمہ داری شاذ ہی قبول کی ہے تاہم اس کے حکام شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کا اعتراف کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی مزید کارروائیاں ہوں گی۔ 

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سلامتی کونسل کے لیے فریقین کے ساتھ مل کر مسائل کو حل کرنے کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی غلطی خطے میں بڑے پیمانے پر تنازع کا باعث بن سکتی ہے جہاں حالات پہلے ہی نازک ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو شام، لبنان، مقبوضہ فلسطینی علاقے اور پورے مشرق وسطیٰ کے عام لوگ اس کی بدترین قیمت چکائیں گے جو پہلے ہی سنگین مشکلات سے دوچار ہیں۔