انسانی کہانیاں عالمی تناظر

آٹزم سے متاثرہ افراد کے انسانی حقوق یقینی بنائے جائیں، گوتیرش

مصر میں آٹزم کے شکار بچوں کے ایک تعلیمی ادارے کا طالبعلم محمود حروف کے ڈھیر سے مطلوبہ حرف ڈھونڈ نکالنے پر مسرت کا اظہار کر رہا ہے۔
© UNICEF/Rehab El-Dalil
مصر میں آٹزم کے شکار بچوں کے ایک تعلیمی ادارے کا طالبعلم محمود حروف کے ڈھیر سے مطلوبہ حرف ڈھونڈ نکالنے پر مسرت کا اظہار کر رہا ہے۔

آٹزم سے متاثرہ افراد کے انسانی حقوق یقینی بنائے جائیں، گوتیرش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے آٹزم کا شکار افراد کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومتوں پر مشترکہ اقدامات کے لیے زور دیا ہے۔

آٹزم سے آگاہی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ہر جگہ آٹزم کا شکار لوگوں کو تعلیم، روزگار اور سماجی شمولیت کے اپنے بنیادی حقوق سے کام لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تمام انسانوں کو اپنے حقوق، زندگی کی سہولیات اور خدمات تک یکساں رسائی ہونی چاہیے۔ جسمانی معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنونشن اور پائیدار ترقی کے لیے 2030 کا ایجنڈا بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔

یہ دن ہر سال 2 اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہر ملک اور معاشرے میں آٹزم سے متاثرہ افراد کے اہم کردار کا اعتراف کرنا ہے۔

آٹزم کا شکار افراد کی مدد

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں ہر 100 میں سے تقریباً ایک بچہ آٹزم کا شکار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی جسمانی کیفیت ہے جس میں بچے کا دماغ پوری طرح نمو پانے سے محروم رہتا ہے۔ 

آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن 2007 سے منایا جا رہا ہے جس کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیا تھا۔ 

امسال اِس دن پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پہلی مرتبہ تمام براعظموں، افریقہ، ایشیا و الکاہل، یورپ، لاطینی امریکہ و غرب الہند اور شمالی امریکہ و اوشیانا سے ایسے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے جو آٹزم کا شکار ہیں۔ اس طرح دنیا میں آٹزم اور اس کا شکار لوگوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کی بابت جائزے میں مدد ملے گی۔

ٹیکنالوجی کا استعمال

سیکرٹری جنرل نے حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ آٹزم کا شکار افراد کو مقامی سطح پر مدد پہنچانے اور انہیں تعلیم و تربیت دینے کے مضبوط نظام وضع کریں۔ اس کے ساتھ انہیں دوسروں کی طرح اپنے حقوق سے کام لینے کے قابل بنانے کے لیے آسان اور ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ ہائے کار بھی وضع کیے جانا چاہئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا کو ناصرف آج بلکہ ہمیشہ ان لوگوں کے حقوق کا اعتراف کرنا اور سبھی کے لیے مشمولہ و قابل رسائی دنیا کی تعمیر کے لیے کام کرنا ہو گا۔