انسانی کہانیاں عالمی تناظر
ہیٹی میں جاری تشدد کے باعث 362,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

جانیے ہیٹی کوعدم استحکام پر قابو پانے میں یو این کے امددای اقدامات بارے

© UNOCHA/Giles Clarke
ہیٹی میں جاری تشدد کے باعث 362,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

جانیے ہیٹی کوعدم استحکام پر قابو پانے میں یو این کے امددای اقدامات بارے

امن اور سلامتی

ہیٹی بڑے پیمانے پر مسلح جتھوں کے تشدد کی لپیٹ میں ہے، ملکی اداروں کا خاتمہ ہونے کو ہے اور شہریوں کو روزانہ اپنی بقا کی جدوجہد درپیش ہے۔ تاہم سلامتی کی تباہ کن صورتحال اور انسانی بحران کے دوران اقوام متحدہ مشکلات میں گھرے لوگوں کو ضروری مدد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

1۔ پس منظر: لاقانونیت اور خوف 

اگرچہ ہیٹی کو طویل عرصہ سے لاقانونیت کا سامنا ہے جہاں طاقتور مسلح جتھوں نے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے بیشتر حصہ پر تسلط جما رکھا ہے۔ تاہم رواں سال جنوری اور فروری میں جس قدر بڑے پیمانے پر تشدد دیکھا گیا اس کی گزشتہ دو سال میں مثال نہیں ملتی۔ اس دوران 2,500 سے زیادہ لوگ ہلاک، اغوا اور زخمی ہوئے۔ مارچ 2024 میں وزیراعظم ایریل ہنری کی جانب سے مستعفی ہونے کے فیصلے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 

21 مارچ کو ہیٹی کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی رابطہ کار الریکے رچرڈسن نے خبردار کیا کہ کئی ہفتوں تک جیلوں، بندرگاہوں اور ہسپتالوں پر مسلح جتھوں کے منظم حملوں کے بعد تشدد اب دارالحکومت کے ان مضافاتی علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے جو کبھی پرامن سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور اجتماعی جنسی زیادتی عام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 362,000 سے زیادہ لوگ اندرون ملک بے گھر ہو گئے ہیں، صاف پانی کی قلت ہے اور دارالحکومت پورٹ او پرنس میں نصف سے بھی کم طبی مراکز فعال ہیں۔ 

22 مارچ کو اقوام متحدہ کے تعاون سے جاری ہونے والے ایک نئے تخمینے کے مطابق ملکی آبادی کو غیرمعمولی درجے کی غذائی قلت کا سامنا ہے۔ 4.97 ملین لوگوں کے لیے یہ قلت بحرانی یا اس سے بھی بدترین درجوں کو چھو رہی ہے جبکہ 1.64 ملین افراد کو ہنگامی درجوں کی غذائی قلت درپیش ہے۔ 

لوگوں کی بڑی تعداد مسلح جتھوں کے زیرتسلط راستوں سے سفر کا خطرہ مول لیتے ہوئے دارالحکومت چھوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مارچ میں کم از کم 33 ہزار لوگوں نے صوبوں میں پناہ لینے کے لیے پورٹ او پرنس کو چھوڑا۔ ان میں بیشتر گرینڈ سڈ کی جانب جا رہے ہیں جہاں پہلے ہی نقل مکانی کرنے والے 116,000 لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

ہیٹی مسلح جتھوں کے تشدد کی لپیٹ میں ہے جنہوں ںے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے بڑے حصے پر بھی تسلط جما رکھا ہے۔
© UNOCHA/Giles Clarke
ہیٹی مسلح جتھوں کے تشدد کی لپیٹ میں ہے جنہوں ںے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے بڑے حصے پر بھی تسلط جما رکھا ہے۔

2۔ خطرناک حالات میں امدادی سرگرمیاں

فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تازہ ترین بحران کے آغاز سے ہی اقوام متحدہ کے کارکن سلامتی کا خطرہ مول لے کر شہری آبادی میں امداد تقسیم کر رہے ہیں۔ اس عرصہ میں مسلح جتھوں نے دارالحکومت بھر میں منظم حملے کیے جس کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی اور وزیراعظم ایریل ہنری کو مستعفی ہونا پڑا۔

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بے گھر ہونے والے لوگوں میں تقریباً 160,000 گرم کھانے تقسیم کیے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کئی طرح کا ضروری طبی سازوسامان مہیا کیا ہے اور اقوام متحدہ کے شعبہ امدادی فضائی خدمات کے جہازوں نے ملک میں 800 کلوگرام خون کی تھیلیاں پہنچائی ہیں۔ 

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار صاف پانی تک رسائی کے فقدان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 16 اور 18 مارچ کے درمیان یونیسف اور غیرسرکاری ادارے 'عالمی یکجہتی' نے چار مقامات پر 12 ہزار سے زیادہ بے گھر لوگوں کو 20,500 لٹر پانی پہنچایا۔ اسی طرح 17 اور 20 مارچ کے درمیان عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے دو مقامات پر 16 ہزار گیلن پانی فراہم کیا۔ 

تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کےا دارے (یو این ایف پی اے) اور اس کے شراکت دار غیرسرکاری ادارے صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کو ہاٹ لائن پر نفسیاتی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ جنسی و تولیدی صحت کے حوالے سے مدد کی فراہمی اور جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کے لیے بے گھر لوگوں کے مراکز میں موبائل کلینک کی سہولت دی گئی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں سلامتی کونسل نے ووٹنگ کے ذریعے ہیٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے ایک کثیر قومی مشن کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔
UN Photo/Paulo Filgueiras
گزشتہ سال اکتوبر میں سلامتی کونسل نے ووٹنگ کے ذریعے ہیٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے ایک کثیر قومی مشن کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

3۔ کثیر فریقی اقدامات

اقوام متحدہ کے متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی ہیٹی کے بحران کو حل کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا ہے۔ 21 مارچ کو سلامتی کونسل نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس کے ارکان سے کہا گیا تھا کہ وہ ہیٹی کے زیرقیادت اور ہیٹی کے لوگوں کے لیے سیاسی عمل میں مدد دیں اور عالمی برادری ملکی آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی اور قومی پولیس کو مدد دینے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کرے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے ملک میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی غیرقانونی ترسیل پر بھی غیرمعمولی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدم استحکام اور تشدد کا ایک بنیادی سبب قرار دیا۔

اکتوبر 2023 میں سلامتی کونسل نے ہیٹی میں اس وقت کی حکومت کی درخواست پر ملکی سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کثیرفریقی معاون مشن (ایم ایس ایس) تعینات کرنے کی منظوری دی۔ اس موقع پر اس قرارداد کو تاریخی قدم قرار دیا گیا اگرچہ اس مشن کی تعیناتی تاحال عمل میں نہیں آئی۔

ہیٹی میں ہیضے کے مریض بچے یونیسف کی مدد سے قائم ایک موبائل ہسپتال میں طبی امداد کے منتظر ہیں۔
© UNICEF/Odelyn Joseph
ہیٹی میں ہیضے کے مریض بچے یونیسف کی مدد سے قائم ایک موبائل ہسپتال میں طبی امداد کے منتظر ہیں۔

4۔ مالی وسائل کی قلت

اسی دوران اقوام متحدہ کے متعدد اعلیٰ سطحی حکام ملک میں امدادی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بڑھانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جمعرات کو الریکے رچرڈسن نے بتایا کہ ہیٹی کو 674 ملین ڈالر کے امدادی وسائل کی ضرورت ہے اور تاحال اس کا 6 فیصد ہی مہیا ہو سکا ہے۔ اس معاملے میں مزید تاخیر کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ 

مارچ میں عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی سربراہ سنڈی مکین نے خبردار کیا تھا کہ وسائل کی قلت کے باعث امدادی کوششوں کا خاتمہ ہونے کو ہے۔

اقوام متحدہ کے تعاون سے ہیٹی میں بے گھر لوگوں کی آبادیوں میں صاف پانی مہیا کیا جا رہا ہے۔
© IOM/Antoine Lemonnier
اقوام متحدہ کے تعاون سے ہیٹی میں بے گھر لوگوں کی آبادیوں میں صاف پانی مہیا کیا جا رہا ہے۔

5۔ غیریقینی مستقبل

ہیٹی کی قومی پولیس کے پاس عملے اور وسائل کی کمی ہے جسے مدد دینے والے 'ایم ایس ایس' مشن کی قیادت متوقع طور پر کینیا کے ہاتھ میں ہو گی۔ غرب الہند کے متعدد ممالک نے بھی اس مشن میں اپنے فوجی دستے بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مشن کے لیے 300 ملین ڈالر مہیا کرے گا۔ 

اگرچہ یہ اقوام متحدہ کا مشن نہیں ہے تاہم اس کی منطوری سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی گئی ہے۔ 

اگرچہ اس حوالے سے بڑے پیمانے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہیٹی میں محفوظ و مستحکم ماحول پیدا کرنے کے لیے اس کی ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔ تاہم سابق وزیراعظم ہنری کے مستعفی ہونے کے بعد اس مشن کی تعیناتی کا معاملہ ابتری کا شکار ہو گیا ہے۔ اس طرح کینیا کو ہیٹی میں نئی حکومت کے قیام تک مشن کی تعیناتی ملتوی کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ 

اطلاعات کے مطابق ملکی سیاسی گروہ ایک عبوری کونسل پر اتفاق رائے کے قریب ہیں جو نئے انتخابات کے انعقاد تک صدارتی اختیارات استعمال کرے گی۔ تاہم یہ بات ابھی تک غیر واضح ہے کہ یہ کونسل کب اختیار سنبھالے گی اور مشن کب ہیٹی میں اپنا کام شروع کرے گا۔