انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: شمالی کوریا پر پابندیوں کی قرارداد کو روس کا ویٹو

پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں قرارداد کے حق میں 13 ووٹ آئے۔ چین رائے شماری سے غیرحاضر رہا جبکہ روس نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
UN Photo/Evan Schneider
پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں قرارداد کے حق میں 13 ووٹ آئے۔ چین رائے شماری سے غیرحاضر رہا جبکہ روس نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

سلامتی کونسل: شمالی کوریا پر پابندیوں کی قرارداد کو روس کا ویٹو

امن اور سلامتی

شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کے کام کی مدت میں توسیع کے لیے سلامتی کونسل میں امریکہ کی پیش کردہ قرارداد کو روس نے ویٹو کر دیا ہے۔

یہ قرارداد منظور نہ ہونے سے شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی عملاً ختم ہو گئی ہے۔ قرارداد میں نگران پینل کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کے لیے کہا گیا تھا۔ 

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل سفیر ویزلے نیبنزیا نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو کی روک تھام کے ارادے سے عائد کردہ پابندیوں کا مقصد پورا نہیں ہو رہا اور یہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں مغرب کے زیرقیادت شمالی کوریا کو دبانے کی غیرمعمولی پالیسی کا حصہ ہیں جن میں کڑی یکطرفہ پابندیاں، جارحانہ پروپیگنڈا اور ملک کے لیے پیدا کردہ براہ راست خطرات بھی شامل ہیں۔

روس کے سفیر نے کہا کہ نیٹو اتحاد کے اقدامات کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا میں فعال عسکری اقدامات سے حالات مزید خراب ہوئے اور اس طرح خطے میں روس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا۔ 

چین کی غیرحاضری

15 رکنی کونسل میں اس قرارداد کے حق میں 13 ووٹ آئے۔ چین رائے شماری سے غیرحاضر رہا جبکہ روس نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ 

اس قرارداد کے ذریعے موجودہ پابندیوں میں کوئی تبدیلی تجویز نہیں کی گئی تھی۔ 

اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب مستقل نمائندے رابرٹ اے وڈ نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کا ویٹو شمالی کوریا کی جانب سے سلامتی کونسل کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کو روکنے کی کوشش ہے۔ قرارداد کو ویٹو کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں پینل نے روس کی جانب سے ان پابندیوں کی کھلی پامالی اور انہیں نظرانداز کرنے کی اطلاعات دینا شروع کر دی تھیں۔ اس ویٹو کے بعد شمالی کوریا کو گویا کھلی چھوٹ مل جائے گی۔

جنوبی کوریا کا مؤقف

اقوام متحدہ میں جنوبی کوریا کے مستقل سفیر ہانگ جون کوک نے رائے شماری سے قبل کونسل کو بتایا کہ ماہرین کا پینل 15 برس سے دیانت دارانہ طور پر اپنا کام کرتا آیا ہے۔ اس نے پابندیوں پر بہتر طور سے عملدرآمد ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اور پابندیوں سے بچنے کے اقدامات کے باعث پینل کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا تھا۔