انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنوبی سوڈان کے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے 1.4 ارب ڈالر کا نیا منصوبہ

کینیا میں جنوبی سوڈان سے آئی پناہ گزین خواتین ایک زرعی فارم سے سبزیاں خرید کر بازار میں بیچنے جا رہی ہیں۔
© UNHCR/Charity Nzomo
کینیا میں جنوبی سوڈان سے آئی پناہ گزین خواتین ایک زرعی فارم سے سبزیاں خرید کر بازار میں بیچنے جا رہی ہیں۔

جنوبی سوڈان کے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے 1.4 ارب ڈالر کا نیا منصوبہ

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اور اس کے شراکت داروں نے افریقہ کے پانچ ممالک میں جنوبی سوڈان کے 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں اور ان کی میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے 1.4 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

'یو این ایچ سی آر' کے مطابق جنوبی سوڈان کو افریقہ میں پناہ گزینوں کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔10 سال پہلے ملک میں مسلح تنازع شروع ہونے کے بعد بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات کو خوراک کی قلت، متواتر عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے مزید شدید بنا دیا ہے۔

Tweet URL

متواتر چار سال تک آنے والے سیلاب کے باعث لوگوں کے گھر اور روزگار تباہ ہو گئے ہیں جبکہ سرحد پار نقل مکانی مزید بڑھ گئی ہے۔

پناہ گزینوں کی طویل مدتی مدد

خطے میں پھیلے جنوبی سوڈان کے پناہ گزینوں کی مدد کے منصوبے سے اس کے 23 لاکھ شہریوں کی ضروریات پوری کی جائیں گی جو اس وقت جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، کینیا، سوڈان اور یوگنڈا میں مقیم ہیں۔

ان پانچوں ممالک میں تقریباً اتنی ہی تعداد میں مقامی لوگ بھی اس منصوبے سے مستفید ہوں گے۔ 

مشرقی خطے، شاخِ افریقہ اور گریٹ لیکس کے لیے 'یو این ایچ سی آر' کے ڈائریکٹر مامادو دیان بالدے کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ 10 برس میں پناہ گزینوں کی مدد کے لیے قابل قدر کوششیں ہوئی ہیں، تاہم حالیہ منصوبہ مزید پیش رفت میں معاون ہو گا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وسائل اور انسانی امداد کے ساتھ استحکام لانے کے لیے سرمایہ کاری کی بدولت ناصرف پناہ گزینوں بلکہ ان کی میزبان آبادیوں کے مسائل کا طویل مدتی حل بھی ممکن ہے۔ 

ہمسایہ ملک سوڈان میں جنگ کے باعث وہاں جنوبی سوڈان کے تقریباً دو لاکھ پناہ گزینوں کو تحفظ کی تلاش میں اندرون ملک نقل مکانی کرنا پڑی ہے جبکہ ہزاروں دیگر مستقل طور پر وطن واپس آ گئے ہیں۔ خطے بھر میں جنوبی سوڈان کے 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔

پناہ گزینوں کا تحفظ

پناہ گزینوں کے لیے وضع کردہ یہ منصوبہ رواں سال کے آغاز میں کی گئی امدادی اپیل میں طلب کردہ مالی وسائل کی کمی کو بھی پورا کرے گا۔ اس اپیل کے ذریعے جنوبی سوڈان میں 59 لاکھ لوگوں کی مدد کے لیے وسائل مہیا کرنے کو کہا گیا تھا۔ 

امدادی شراکت دار میزبان حکومتوں اور علاقائی اداروں کے تعاون سے اٹھائے گئے کامیاب اقدامات کو آگے بڑھائیں گے۔ اس طرح ایسے لوگوں کے لیے پناہ اور شہریت کی دستاویزات تک رسائی بہتر بنانے اور ان کے لیے محفوظ ماحول کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ 

انسانی امداد اور تحفظ کی خدمات بشمول صنفی بنیاد پر تشدد اور جنسی استحصال سے حفاظت کی موثر فراہمی بھی اس منصوبے کے مقاصد میں شامل ہے۔ 

ذہنی صحت پر توجہ

اس منصوبے کے تحت پناہ گزینوں بالخصوص جنوبی سوڈان سے آنے والوں کی ذہنی صحت کو بھی ترجیح دی جائے گی کیونکہ محدود مواقع کے باعث بہت سے لوگ ناامید ہوتے جا رہے ہیں۔ 

قومی سطح پر صحت، تعلیم اور دیگر طرح کے نظام میں پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہاں افراد کی شمولیت کے علاوہ روزگار کے مواقع کی فراہی کے ذریعے خودانحصاری کا فروغ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں شراکتوں کے قیام اور مالی وسائل میں اضافے پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے جس کا مقصد نقل مکانی کرنے والے لوگوں اور ان کی میزبان آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابل مضبوط بنانا ہے۔