انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں تپِ دق سے ہر سال 13 لاکھ اموات، ڈبلیو ایچ او

انڈیا میں ڈاکٹر ایک تپ دق کی جانچ کے لیے ایک مریض کا ایکسرے دیکھ رہے ہیں۔
© UNICEF/Vinay Panjwani
انڈیا میں ڈاکٹر ایک تپ دق کی جانچ کے لیے ایک مریض کا ایکسرے دیکھ رہے ہیں۔

دنیا میں تپِ دق سے ہر سال 13 لاکھ اموات، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) اب بھی ہر سال 13 لاکھ جانیں لے رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہو گا۔

'ڈبلیو ایچ او' نے برازیل، جارجیا، کینیا اور جنوبی افریقہ میں لیے گئے ایک جائزے کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی بی پر قابو پانے کے لیے خرچ کیے جانے والے ہر ایک ڈالر کے عوض 39 ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔

Tweet URL

یہ فائدہ مالی نوعیت کا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے صحت عامہ میں نمایاں بہتری آتی ہے اور خاندانوں اور معاشروں پر ٹی بی کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ آج دنیا کے پاس اِس ہزار سالہ مہلک متعدی بیماری کا خاتمہ کرنے کے لیے علم، ذرائع اور سیاسی عزم موجود ہے۔ چاروں ممالک کے جائزے سے یہ سامنے آیا ہے کہ حقائق اور ٹی بی کی تشخیص اور روک تھام کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے تجویز کردہ اقدامات کے تحت سرمایہ کاری سے تمام لوگوں کے لیے طبی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

سرمایہ کاری کا فقدان

دنیا کو اس بیماری پر قابو پانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اندازے کے مطابق گزشتہ 23 برس میں 7 کروڑ 50 لاکھ زندگیوں کو ٹی بی سے تحفظ ملا ہے۔ تاہم اب بھی یہ مرض ہر سال 13 لاکھ جانیں لیتا اور لاکھوں لوگوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ 

بہت سی دواؤں کے خلاف مزاحم ٹی بی (ایم آر ڈی۔ٹی بی) صحت عامہ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ 2022 میں صرف 40 فیصد لوگوں کو اس بیماری کے علاج تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔ ٹی بی کی تشخیص کے نئے ذرائع، ادویات اور ویکسین کی تیاری میں پیش رفت کو سرمایہ کاری میں کمی کے باعث رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔

اس تناظر میں ٹی بی سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری سے اس کی جانچ اور پیشگی روک تھام میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ 2023 میں انسداد ٹی بی سے متعلق حکومتوں کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی یہی طے پایا تھا۔

ٹی بی کے خلاف عالمی دن

ادارے میں انسداد تپ دق کے عالمگیر پروگرام کی ڈائریکٹر تیریزا کاسائیوا نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ برس یہ یقینی بنانے کے لیے اہم ہوں گے کہ تپ دق کے خلاف سیاسی عزائم کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' ٹی بی کے خلاف اقدامات کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا یہاں تک کہ ہر فرد، خاندان اور معاشرہ اس مہلک بیماری سے محفوظ نہ ہو جائے۔

'ہاں، ہم ٹی بی کا خاتمہ کر سکتے ہیں' اس بیماری کے خلاف 24 مارچ کو منائے جانے والے عالمی دن کا خاص موضوع ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' نے اس پیغام کے ذریعے ٹی بی کے خلاف اعلیٰ سطحی قائدانہ کردار، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور اہم تجاویز پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا ہے۔