انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ میں بچوں کی ہلاکتیں گزشتہ چار سالوں میں دنیا کے کل تنازعات سے زیادہ

ایک ماں نے اپنے بچے کو کمبل میں لپیٹ رکھا ہے جب کہ دو چھوٹے بچے ایک بے گھر خاندان کی پناہ میں قریب ہی کھڑے ہیں۔
© UNICEF/Abed Zaqout اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ایک خاندان رفح میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں سر چھپائے بیٹھا ہے۔

غزہ میں بچوں کی ہلاکتیں گزشتہ چار سالوں میں دنیا کے کل تنازعات سے زیادہ

امن اور سلامتی

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بتایا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد دنیا بھر میں گزشتہ چار سالہ جنگوں میں مارے جانے والے بچوں کی مجموعی تعداد سے تجاوز کر گئی ہے۔

'انرا' کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے غزہ کی جنگ کو بچوں، ان کے بچپن اور مستقبل کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ انہوں نے غزہ کے طبی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران علاقے میں کم از کم 12,300 بچے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2019 سے 2022 تک دنیا بھر میں مسلح تنازعات میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 12,193 تھی۔

Tweet URL

جنگ بندی کا مطالبہ 

غزہ پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جن میں گزشتہ روز بھی شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فلپ لازارینی نے عالمی برادری کا مطالبہ دہراتے ہوئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ 7 اکتوبر کے بعد علاقے میں 31,184 فلسطینی ہلاک اور 72,889 زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی فوج کے مطابق 12 مارچ تک لڑائی میں اس کے 1,475 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 

بچوں کے لیے تباہ کن حالات

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بچوں کے بھوک اور بیماریوں سے متاثر ہونے کا خدشہ سب سے زیادہ ہے۔ علاقے میں تقریباً 10 لاکھ بچے بے گھری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں 17 ہزار ایسے ہیں جنہوں نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے یا ان سے بچھڑ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے غزہ میں تباہ کن انسانی حالات کے بارے میں متواتر خبردار کر رہے ہیں جہاں کم از کم 20 فیصد آبادی یا 576,000 افراد کو قحط کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق شمالی غزہ میں خوراک اور پانی کی شدید قلت کے باعث 21 بچوں سمیت 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

شمالی غزہ میں امداد کی فراہمی

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار غزہ میں جنگ سے تباہ حال لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ 20 فروری کے بعد گزشتہ روز عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کا پہلا قافلہ 25 ہزار لوگوں کے لیے امدادی سامان لے کر شمالی غزہ پہنچا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے لوگ قحط کے دھانے پر ہیں جن کی زندگیاں بچانے کے لیے وہاں روزانہ امداد کی فراہمی اور بیرون غزہ سے علاقے میں براہ راست رسائی کے راستے کھولنے کی ضرورت ہے۔

'اوچا' کے مطابق گزشتہ ہفتے غزہ میں اقوام متحدہ کے 19 امدادی شراکت داروں نے روزانہ دو لاکھ افراد کی ضروریات کے مطابق خوراک اور گرم کھانا تقسیم کیا۔ ان میں دو تہائی لوگوں نے رفح اور دیگر نے دیر البلاہ، خان یونس اور دیگر علاقوں میں امداد وصول کی۔ 

ہسپتالوں کے لیے امداد

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اس کے شراکت داروں نے سوموار کو شمالی غزہ کے الشفا اور الہیلو ہسپتال میں ادویات اور طبی سازوسامان پہنچایا۔ ہفتے کو الاہلی عرب ہسپتال اور الصحابہ ہسپتال کو بھی ایسی ہی مدد فراہم کی گئی تھی۔

الشفا ہسپتال کو پہنچائی جانے والی مدد میں 24 ہزار لٹر ایندھن اور 42 ہزار افراد کی ضرورت کی ادویات، مریضوں کو بیہوش کرنے کا سامان اور جراحی کے آلات شامل ہیں۔ 

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے ایکس پر کہا ہے کہ الشفا ہسپتال بمشکل فعال ہے جہاں تربیت یافتہ طبی کارکنوں کی فوری ضرورت ہے۔ الہیلو ہسپتال کے حالات بھی مخدوش ہیں جہاں خوراک، ایندھن، جراحی کے آلات اور طبی عملے کی اشد ضرورت ہے۔