میانمار: فوج اور حزب مخالف میں جھڑپوں میں شہری ہلاکتوں پر تشویش
انسانی حقوق کے کے کارکنوں نے میانمار کی فوج اور حزب اختلاف کی فورسز کے مابین لڑائی میں رہائشی علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے حملوں اور ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میانمار کی شمالی ریاست راخائن اس لڑائی کا مرکز ہے جس کے دارالحکومت ستوے میں 9 مارچ کو توپ کا گولہ گرنے سے کم از کم آٹھ روہنگیا شہری ہلاک اور پانچ بچوں سمیت 12 زخمی ہو گئے۔
یہ دو ہفتوں کے دوران ستوے میں گولہ باری سے عام شہریوں کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 29 فروری کو ایک قصباتی بازار کے قریب گولہ گرنے سے کم از کم 21 شہری ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
یہ واقعات ایسے وقت پیش آ رہے ہیں جب راخائن میں میانمار کی مسلح افواج اور اس کی مخالف اراکان آرمی کے مابین جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ لڑائی میں فضائی بمباری اور توپخانے کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔
لاکھوں افراد بے گھر
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں میانمار کے انسانی حقوق کے کارکنوں سے منسوب معلومات کے تحت کہا گیا ہے کہ متحارب فریقین کے اقدامات سے شہریوں اور ضرورت مند لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے امدادی کارکنوں کی صلاحیت کو نقصان ہو رہا ہے۔
ادارے نے تمام فریقین پر واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ان پر دوران جنگ شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
راخائن میں حالیہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں تین لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ 2021 کے آغاز میں ملک پر فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد شروع ہونے والے اس بحران میں اب تک 27 لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔