انسانی کہانیاں عالمی تناظر
شندور پنگل نے میسنز انک اور خواتین معماروں پر مشتمل ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے مٹی کا اپنا گھر تعمیر کیا جسے وہ اپنے شوہر اور ان کے ساتھ گزاری زندگی کے نام کرتی ہیں۔

انڈیا میں مٹی گارے سے تعمیرکردہ ماحول دوست گھر

© Sindhoor Pangal
شندور پنگل نے میسنز انک اور خواتین معماروں پر مشتمل ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے مٹی کا اپنا گھر تعمیر کیا جسے وہ اپنے شوہر اور ان کے ساتھ گزاری زندگی کے نام کرتی ہیں۔

انڈیا میں مٹی گارے سے تعمیرکردہ ماحول دوست گھر

موسم اور ماحول

انڈیا میں دو خواتین مٹی کے ذریعے 'پائیدار تعمیر' کو فروغ دے کر بیک وقت موسمیاتی مسائل میں کمی لانے اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔

دنیا میں کاربن کے اخراج میں تعمیراتی صنعت کا مجموعی حصہ 40 فیصد ہے جو سیمنٹ اور سٹیل پر انحصار کرتی ہے۔ اس کاربن کا بڑا حصہ تعمیراتی مواد کی تیاری اور اس کی نقل و حمل کے دوران خارج ہوتا ہے۔ 

انڈیا کے شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی تعمیراتی کمپنی میسنز انک کی روزی پال اور سولہ سال سے ان کی بہترین دوست سری دیوی چنگالی نے انڈیا میں مٹی گارے سے تعمیرات کے قدیمی ورثے کو تحفظ دینے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مٹی اپنی پائیدار خصوصیات کی وجہ سے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نہایت موزوں شے ہے جو بڑی مقدار میں کاربن خارج کرنے والے تعمیراتی مواد سے جنم لیتے ہیں۔ یہ کمپنی دونوں دوستوں نے اکٹھے قائم کی ہے۔ 

روزی پال کہتی ہیں کہ "بیشتر ماہرین تعمیرات موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سوچنے کی زحمت نہیں کرتے لیکن ہم اپنے شعبے میں اس حوالے سے تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی لوگوں کی جائے رہائش پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے اور یہی وجہ ہےکہ اب پائیدار عمارتیں تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔"

مٹی کا جادو

مٹی ہوا کو جذب کرتی ہے جس سے گھر میں ٹھنڈک رہتی ہے، درون خانہ ہوا کا معیار بہتر ہوتا ہے جبکہ دیواریں اور چھتیں اس خرابی سے محفوط رہتی ہیں جو سیمنٹ میں ٹھہر جانے والی رطوبت اور کیمیائی مادوں کے ملاپ سے جنم لیتی ہے۔ 

مٹی کی دیواریں شمسی حرارت کو اپنے اندر محفوظ کر لیتی ہیں اور رات کے وقت ٹھنڈک میں خارج کرتی ہیں۔ اس سے ایئر کنڈیشننگ اور چیزوں کو ٹھنڈا رکھنے کے آلات کی ضرورت نہیں رہتی جن میں بھاری مقدار میں بجلی استعمال ہوتی ہے جبکہ وہ بڑے پیمانے پر گرین ہاؤس گیسیں بھی خارج کرتے ہیں۔ 

مٹی باآسانی اور ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی نقل و حمل پر بہت کم اخراجات آتے ہیں اور یوں اس عمل میں کاربن کا اخراج بھی کم رہتا ہے۔ سری دیوی کا کہنا ہے کہ وہ جائے تعمیر پر مقامی لوگوں سے کام لیتی ہیں جس سے انہیں روزگار میسر آتا ہے۔

خواتین کی مدد خواتین کے سنگ

روزی اور سری دیوی خواتین کو فن تعمیر کی تعلیم مکمل کرنے اور انہیں پتھر کی دیواریں تعمیر کرنے جیسی عملی تربیت دینے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہیں۔

روزی کا کہنا ہے کہ جب صنفی مسائل پر بات کی جائے تو اسے اختلافی رنگ میں لیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ دراصل اس پیشے میں بھی خواتین کو مسائل درپیش ہیں جن پر قابو پانے کے لیے انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ 

''ہماری سوچ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو اپنی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت دی جائے۔ تعمیراتی کام پر بھی ان کی بڑی تعداد میں خواتین کو رکھا جائے۔ ان کے تحفظ کے معاملات کو دیکھا جائے۔ اس کا مقصد رکاوٹوں کو دور کرنا اور اس جدوجہد میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔"

میسنز انک سے اپنا گھر بنوانے والے تھامس پیاپیلی اس کام میں ان کا ساتھ دینے والے ابتدائی لوگوں میں سے ہیں۔

ٹامس پیاپلیز کا یہ گھر انتہائی کم لاگت اور ماحول دوست سازوسامان  کے ساتھ بنایا گیا ہے۔
© Grace Barrett
ٹامس پیاپلیز کا یہ گھر انتہائی کم لاگت اور ماحول دوست سازوسامان کے ساتھ بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تعمیراتی تصور میں دو بنیادی چیزیں تھی یعنی ایسا گھر تعمیر کیا جائے جس پر کم سے کم وسائل خرچ ہوں اور ماحول کو زیادہ سے زیادہ تحفظ ملے۔ ان کے فارم میں مکمل طور سے نامیاتی پیداوار ہوتی ہے جہاں خوشبو دار اور شفا بخش پودے اگائے جاتے ہیں۔ 

ان کی ایک اور گاہک شندور پنگل مٹی سے بنے اپنے گھر کو غیراطمینان بخش شہری زندگی سے مراجعت کے طور پر دیکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی بہت سے لوگوں کی طرح کاروباری دنیا میں کام شروع کیا تھا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد انہیں اس زندگی سے مایوسی ہونے لگی۔ چنانچہ انہوں نے مضافات میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاہم اس دوران ان کے شوہر اتم کا اچانک انتقال ہو گیا۔ 

وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے گھر بنوانے کے لیے میسنز انک سے اس لیے بھی بات کی کیونکہ وہ لوگ ان کے شوہر کو جانتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ وہ کیا سوچ کر یہ سب کچھ کر رہی ہیں اور کسی طرح یہ سوچ ان کے گھر کی تعمیر میں بھی در آئی۔ میسنز انک اور شندور نے خواتین معماروں پر مشتمل ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے گھر تعمیر کیا جسے وہ اپنے شوہر اور ان کے ساتھ گزاری زندگی کے نام کرتی ہیں۔

روزی اور سری دیوی سمجھتی ہیں کہ موسمیاتی بحران کی بات ہو تو بڑی تبدیلیاں لوگوں کے انفرادی کردار سے جنم لیتی ہیں۔

وہ خواتین سے کہتی ہیں کہ وہ جہاں بھی ہوں، ان کا جو بھی پیشہ ہو، خواہ وہ گھر پر ہی کیوں نہ رہتی ہوں، ان کے لیے بنیادی بات یہ ہے کہ انہیں اپنا چھوٹا سا کردار ادا کرنا ہے اور آگے بڑھتے رہنا ہے۔ وہ تعمیراتی شعبے میں ہر حیثیت سے اور ہر جگہ مزید خواتین کو دیکھنا چاہتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ مستقبل خواتین کا ہے۔

روزی پال اور سری دیوی چنگالی نے میسنز انک نامی ماحول دوست تعمیراتی کمپنی 2013 میں قائم کی تھی۔
© Grace Barrett
روزی پال اور سری دیوی چنگالی نے میسنز انک نامی ماحول دوست تعمیراتی کمپنی 2013 میں قائم کی تھی۔

عالمی تعمیراتی و موسمیاتی فورم

روزی اور سری دیوی نے 7 اور 8 مارچ کو پیرس میں ہونے والے عالمی تعمیراتی و موسمیاتی فورم میں بھی شرکت کی۔ 

یہ فورم فرانس اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے مشترکہ طور پر منعقد کیا جس میں عالمگیر اتحاد برائے عمارات و تعمیرات نے بھی معاونت کی۔ اس فورم میں دنیا بھر کے ممالک سے وزرا اور اہم اداروں کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی جس کا مقصد کاپ 28 کے بعد کاربن کے اخراج میں کمی لانے اور موسمیاتی اعتبار سے پائیدار تعمیرات کے لیے بین الاقومی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اس موقع پر دنیا بھر کی حکومتوں نے بنیادی اصولوں اور عالمگیر تعاون کے طریقہ کار پر مبنی مشترکہ اعلامیے کی منظوری دی۔ تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام فریقین کو بھی فورم کے مقاصد کی تکمیل کے لیے مخصوص حوالوں سے بات چیت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔