انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: رفع پر زمینی حملہ سفاکانہ جرائم کا موجب بن سکتا ہے، وولکر ترک

لوگوں کا ایک بڑا ہجوم، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، غزہ میں ایک آدمی کی طرف سے ایک بڑے برتن سے سوپ لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
© UNRWA غزہ کے لوگ خوراک کے حصول کے لیے قطار میں لگے ہوئے ہیں۔

غزہ: رفع پر زمینی حملہ سفاکانہ جرائم کا موجب بن سکتا ہے، وولکر ترک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے گنجان علاقے رفح پر حملے کے نتیجے میں سفاکانہ جرائم کے ارتکاب کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

ہائی کمشنر کے ترجمان جیریمی لارنس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ایسے حملوں کے نتیجے میں انسانی صورتحال بدترین صورت اختیار کر جائے گی جو کہ پہلے ہی تباہ کن ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ اس ہفتے مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کا آغاز ہو رہا ہے جس میں امن اور رواداری قائم رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ماہ رمضان میں مشرقی یروشلم اور مسجد اقصیٰ تک رسائی پر پابندیاں عائد کرنے سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اسرائیل نے دھمکی دے رکھی ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے باقیماندہ یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو وہ اپنی عسکری کارروائیوں کا دائرہ رفح تک بڑھا دے گا۔ 

یرغمالیوں کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ

ہائی کمشنر نے اسرائیل سے کہا ہے کہ مقبوضہ طاقت کی حیثیت سے وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے امدادی اداروں کو خوراک اور ادویات ضرورت مند لوگوں تک پہنچانے کی اجازت دے۔ اگرہ وہ ایسا نہیں کر سکتا تو شہری آبادی کی ضروری انسانی امداد تک رسائی یقینی بنائے۔

ان کا کہنا ہے کہ حماس اور دیگر جنگجوؤں کی قید میں تمام یرغمالیوں کو غیرمشروط طور پر رہا کیا جانا چاہیے جو 150 روز سے تکالیف اور اذیت جھیل رہے ہیں۔ 

سرحدی راستے اور امدادی راہداریاں پوری طرح کھولی جائیں اور ہر جگہ امدادی قافلوں کی آزادانہ اور محفوط نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ 

آباد کاری میں وسعت: عالمی قانون کی پامالی

وولکر تُرک نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید 3,476 گھر تعمیر کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف جبر، تشدد اور امتیازی سلوک کے دیرینہ سلسلے میں مزید اضافہ ہے۔ 

ہائی کمشنر نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں نئی آبادیوں کا قیام اور اپنے لوگوں کو وہاں منتقل کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق اسرائیل مالے عدومیم، عفرات اور کیدار میں نئی آبادیاں تعمیر کرے گا جو کہ بین الاقوامی قانون کی کھلی پامالی ہے۔ ہائی کمشنر کی رپورٹ کے مطابق یکم نومبر 2022 سے گزشتہ برس 31 اکتوبر تک اسرائیل نے مغربی کنارے میں تقریباً 24,300 گھر تعمیر کیے جو کہ 2017 میں اس معاملے کی نگرانی شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس میں 9,670 گھر مشرقی یروشلم میں بنائے گئے ہیں۔

مغربی کنارے کے پرانے شہر ہیبرون میں ایک فلسطینی خاتون نیلے سر پر اسکارف پہنے ایک حفاظتی چوکی اور کنکریٹ کی رکاوٹ سے گزر رہی ہے۔
© UNICEF/Ahed Izhiman فلسطینی مغربی کنارے میں ہیبرون کے مقام پر اسرائیلی چیک پوسٹ۔

اسرائیلی توسیعی عزائم

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر طویل مدتی تسلط کو وسعت دینے اور مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں مدغم کرنے کے لیے سرگرم آبادکار تحریک کے مقاصد سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہیں۔ 

علاوہ ازیں یہ پالیسیاں دو ہفتے قبل عالمی عدالت انصاف کے روبرو پیش کردہ بہت سے ممالک کے وسیع تر خیالات سے بھی متضاد ہیں۔ ان کا حوالہ اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے کی جانب تھا جس میں عدالت کے سامنے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور اقدامات کے قانونی نتائج کا جائزہ پیش کیا گیا۔ 

آباد کاروں کے حملے

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے 603 حملے ہو چکے ہیں۔ اس تشدد کے براہ راست نتیجے میں 19 گلہ بان قبیلوں سے تعلق رکھنے والے 1,222 فلسطینیوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔

7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی آباد کاروں کے ہاتھوں نو اور اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 396 فلسطینیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ دو ہلاکتوں کے حوالے سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا وہ آباد کاروں کے ہاتھوں ہوئیں یا اسرائیلی فوج ان کی ذمہ دار تھی۔ 

اس عرصہ میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 282 بچوں سمیت 592 فلسطینیوں کو اپنے گھر گرائے جانے کے بعد نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان لوگوں کے پاس اسرائیل کے جاری کردہ تعمیراتی اجازت نامے نہیں تھے جن کا حصول تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ مغربی کنارہ پہلے ہی بحرانی صورتحال سے دوچار ہے۔ آباد کاروں کا تشدد مزید بلند سطح کو چھونے لگا ہے جس سے قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان خطرے میں پڑ گیا ہے۔