مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی توسیع پسندی قابل مذمت، وینزلینڈ
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیرقانونی آبادیوں میں 3,400 گھروں کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبہ کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تمام اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی ضوابط کے تحت غیرقانونی ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں ایسے توسیعی اقدامات تنازع کو ہوا دینے، قبضے کو مستحکم کرنے، خود ارادیت اور آزاد ریاست کے لیے فلسطینیوں کے حق کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے بدھ کو نئے گھروں کی تعمیر کے اجازت نامے جاری کیے تھے۔ یہ 7 اکتوبر کو غزہ کا تنازع شروع ہونے کے بعد ایسا پہلا اجرا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کے بعد ایک سال کے عرصہ میں جاری کیے گئے اجازت ناموں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
مغربی کنارے میں انسانی نقصان
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور اسرائیل میں 416 فلسطینی ہلاک اور 718 بچوں سمیت 4,658 زخمی ہو چکے ہیں۔
رواں سال اب تک 101 فلسطینیوں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ 2023 میں اسی عرصہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 71 تھی۔ ایسے بیشتر لوگ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔
7 اکتوبر کے بعد انہی علاقوں میں 15 اسرائیلیوں کی ہلاکت بھی ہوئی جن میں چار کا تعلق اسرائیل کی سکیورٹی فورسز سے ہے۔ غزہ کی جنگ سے متعلقہ واقعات میں 90 اسرائیلی زخمی بھی ہو چکے ہیں۔