انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ میں مزید امداد جانے دی جائے، ڈبلیو ایچ او چیف

غزہ میں تقسیم کے دوران بچوں اور خواتین سمیت لوگوں کا ایک ہجوم امدادی کارکنوں سے کھانے کے پارسل اور سوپ کے کنٹینرز وصول کر رہا ہے۔
© WFP/Mostafa Ghroz غزہ میں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔

غزہ میں مزید امداد جانے دی جائے، ڈبلیو ایچ او چیف

امن اور سلامتی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے غزہ میں مزید انسانی امداد پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بچے بمباری سے بچ گئے ہیں وہ قحط سے نہیں بچ سکیں گے۔

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ان کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں حالات خاص طور پر تشویشناک ہیں جہاں ہر چھ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ انہوں نے اپنے اس بیان کے ساتھ کمال عدوان ہسپتال کے بچہ وارڈ کی ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس سے وہاں بڑے پیمانے پر ضروریات کا اندازہ ہوتا ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اور ان کے شراکت دار اسرائیل کی عائد کردہ رکاوٹوں اور علاقے میں جاری لڑائی کے باعث اس ہسپتال کو امداد پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 

ہنگامی طبی حالات 

غزہ کے انتہائی شمالی علاقے میں واقع اس ہسپتال میں حالیہ دنوں کم از کم 10 بچے خوراک اور پانی کی قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں انہی حالات کے باعث ایسی ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

کمال عدوان ہسپتال کے ڈاکٹر عماد دردونہ کا کہنا ہے کہ جو بچہ روزانہ تین مرتبہ کھانا کھاتا تھا اسے اب صرف ایک وقت کا کھانا میسر ہے جو صحت برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ ہسپتال میں لائے جانے والے بچوں میں 50 تا 60 فیصد کے لیے علاج مہیا کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ عارضی طور پر ان کی قوت بحال کرنے کے لیے معالجین کے پاس انہیں نمک یا شکر کا مسہل دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ 

جنگ بندی کے مطالبات

غزہ کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد میں ترامیم کی اطلاعات آئی ہیں جس میں تقریباً چھ ہفتے تک جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کہا گیا ہے۔

یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی بات چیت جاری ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے غزہ میں جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس بھی چھ ہفتے کے لیے لڑائی روکنے کو کہہ چکی ہیں۔ 

بحیرہ احمر میں حملے

یمن کے حوثی جنگجو غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر میں جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں جس سے سمندری تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے (انکٹاڈ) نے بحیرہ احمر سے نہر سوئز کی جانب جانے والے کنٹینر بردار جہازوں پر حملوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایشیا اور یورپ کے مابین سمندری تجارت کے لیے سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ 

تجارت کا نقصان

ادارے کا کہنا ہے کہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر بہت سے بحری جہاز افریقہ کے گرد طویل چکر لگا کر یورپ جا رہے ہیں۔ گزشتہ مہینے کے ابتدائی دو ہفتوں میں 586 کنٹینر بردار جہازوں کو یہ راستہ اختیار کرنا پڑا جبکہ نہر سویز کے راستے یورپ کو جانے والے کنٹینروں کی تعداد میں 82 فیصد کمی آئی۔

گزشتہ برس دنیا میں مال بردار کنٹینروں کی 22 فیصد تجارت نہر سویز کے راستے ہوئی تھی۔ اس میں بحر ہند، بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کے آر پار قدرتی گیس، تیل، خام مال اور بہت سے صنعتی اجزا کی نقل و حمل شامل ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد بحیرہ اسود کے راستے تجارت میں بھی خلل آیا ہے اور اب بحیرہ احمر کے مسئلے نے اسے مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ 

کاربن کے اخراج میں اضافہ

'انکٹاڈ' کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب دنیا کو عالمگیر تجارت کے دو بڑے راستوں پر مسائل کا سامنا ہے جس کے قیمتوں اور توانائی و خوراک کے تحفظ پر دور رس نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ 

ان مسائل سے ترقی یافتہ ممالک خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ بحری جہازوں کے راستے تبدیل اور سفر طویل ہو جانے کے باعث جہازوں کی اوسط رفتار تقریباً 6 فیصد بڑھ گئی ہے جس سے کاربن کے اخراج میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ فاصلہ طویل ہونے کے باعث ان جہازوں کو اپنی رفتار تیز رکھنا پڑتی ہے۔ اس طرح بڑی مقدار میں ایندھن خرچ ہوتا ہے اور اس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔