خانہ جنگی میں سوڈان کو خوراک کے بدترین بحران کا سامنا
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں 11 ماہ سے جاری خانہ جنگی کے باعث بھوک کا بدترین بحران پیدا ہو رہا ہے جس سے پورا خطہ متاثر ہو گا۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق اس وقت سوڈان میں 95 فیصد سے زیادہ آبادی کو روزانہ حسب ضرورت کھانا دستیاب نہیں ہوتا۔ ملکی فوج اور اس کی متحارب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور تقریباً 80 لاکھ بے گھر ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ ملک میں ایک کروڑ 40 لاکھ بچوں کو زندگی کی بقا کے لیے مدد کی اشد ضرورت ہے۔
فراموش کردہ لوگ
'ڈبلیو ایف پی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مکین نے کہا ہے کہ 20 سال پہلے جب سوڈان کے علاقے ڈارفر میں دنیا کے سب سے بڑے غذائی بحران نے جنم لیا تو عالمی برادری متحد ہو کر اس کی مدد کو آئی تھی۔ لیکن آج سوڈان کے لوگوں کو بھلا دیا گیا ہے۔
حالیہ تنازع ملکی سرحدوں سے باہر پھیلنے کا خدشہ بھی ہے جس سے خطے بھر کا امن اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
سنڈی مکین نے یہ بات جنوبی سوڈان میں کہی جہاں انہوں نے سوڈان میں تشدد اور بدترین صورت اختیار کرتے قحط سے جان بچا کر آنے والے لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
امدادی کام میں رکاوٹیں
سوڈان میں ایک کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ اور 50 لاکھ لوگوں کو قحط کا سامنا ہے۔ متحارب فریقین کی جانب سے نقل و حرکت پر پابندیوں اور وسائل کی کمی کے باعث امدادی کارکنوں کے لیے ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
سوڈان میں شدید غذائی قلت کا سامنا کرنے والے 90 فیصد لوگ ایسے علاقوں میں ہیں جہاں امداد کی رسائی بہت مشکل ہے۔ 'ڈبلیو ایف پی' نے ان لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے متحارب فریقین سے لڑائی کو فوری طور پر روکنے کی نئی اپیل جاری کی ہے۔
سوڈان کے حکام کی جانب سے جنوبی سوڈان اور چاڈ کی جانب سرحدی گزرگاہوں سے آنے والے ٹرکوں کے قافلوں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے سے امدادی سرگرمیوں میں مزید خلل آیا ہے۔ ایسے حالات میں چاڈ سے ڈارفر میں مہیا کی جانے والی امداد کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ غذائی بحران صرف سوڈان تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے جنوبی سوڈان اور چاڈ سمیت تینوں ممالک میں ڈھائی کروڑ افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
پناہ گزین بچوں میں غذائی قلت
گزشتہ برس 15 اپریل سے جاری خانہ جنگی میں لاکھوں لوگوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان میں 6 لاکھ افراد پناہ کے لیے جنوبی سوڈان آئے ہیں۔ 'ڈبلیو ایف پی' نے بتایا ہے کہ سرحد پر پناہ گزینوں کے مراکز میں 20 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔
اگرچہ نقل مکانی کرنے والے لوگ ملکی آبادی کا چھوٹا سا حصہ ہیں تاہم حالیہ عرصہ میں جنوبی سوڈان میں آنے والے لوگ شدید بھوک کا شکار آبادی کے 30 فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
امدادی وسائل کی ضرورت
'ڈبلیو ایف پی' کو سوڈان میں لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ادارے نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ اسے سوڈان کے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے مزید 74 ملین ڈالر درکار ہیں جن سے رواں سال 42 لاکھ لوگوں کو خوراک مہیا کی جانا ہے۔
سنڈی مکین نے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان میں انہیں ایسی پناہ گزین ماؤں اور بچوں سے ملاقات کا موقع بھی ملا جو جان بچانے کے لیے کئی مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور اب ان کی زندگیوں کو قحط سے خطرہ ہے۔ اگر ان حالات پر قابو پانے کے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں پورا خطہ اس بحران سے متاثر ہو گا۔