انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شو بزنس میں وسیع پیمانے پر ’بچوں کے جنسی استحصال کا انکشاف‘

دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لڑکیاں اور لڑکے جنسی زیادتی اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔
© UNICEF/Estey
دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لڑکیاں اور لڑکے جنسی زیادتی اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

شو بزنس میں وسیع پیمانے پر ’بچوں کے جنسی استحصال کا انکشاف‘

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تفریحی صنعت میں بڑے پیمانے پر بچوں کا جنسی استحصال ہو رہا ہے جہاں بااختیار لوگ بچوں کی زندگی سے کھیلتے اور اپنے جرائم پر قانون کی گرفت سے صاف بچ نکلتے ہیں۔

بچوں کی خریدوفروخت اور ان کے جنسی استحصال کے خلاف اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ماما فاطمہ سنگھاتا نے اس مسئلے پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ان بچوں کو فوری تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ تفریحی صنعت میں بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور ان کا استحصال غیراخلاقی نظام اور اختیار کے ناجائز استعمال کا نتیجہ ہے۔ اس شعبے میں بچوں کو جنس زدہ، متشدد اور جارحانہ ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے محفوظ نہیں ہوتا اور اس کے باعث وہ نشے کی لت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 

بچوں کو تحفظ دینے کے لیے تفریحی صنعت اور میڈیا کے اداروں میں ان سے ہونے والی بدسلوکی اور استحصال کا اجتماعی اور انفرادی طور پر مقابلہ کرنا ہو گا۔

'می ٹو' سے آگے

خصوصی اطلاع کار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کا مسئلہ تفریحی صنعت کے ہر پہلو میں موجود ہے۔ فلم، ٹیلی ویژن، موسیقی، تھیٹر، ماڈلنگ، سرکس، طائفوں، موسیقی کے میلوں، نائٹ کلبوں، شراب خانوں، زیبائشی صنعت، کھیلوں، سیاحت اور میزبانی کے شعبوں میں کام کرنے والے بہت سے بچے استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ 

یہ مسئلہ عام میل جول کی جگہوں اور ڈیجیٹل دنیا بشمول سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں پر اثرانداز ہونے کے کام اور آن لائن کھیلوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ 

اس بارے میں انہوں نے چند سال قبل ہالی وڈ کے فلم ساز ہاروے وائنسٹائن کے مشہور مقدمے کا حوالہ بھی دیا جس میں انہیں جنسی زیادتی، جنسی حملوں اور ایسے دیگر جرائم میں 23 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ماما فاطمہ کا کہنا ہے کہ 'می ٹو' جیسی تحریکوں نے ہالی وڈ اور تفریحی صنعت کے دیگر بڑے مراکز میں جنسی زیادتی اور استحصال کے خلاف آگاہی پیدا کی ہے۔ تاہم ایسے واقعات کے متاثرین کی گواہی اس شعبے میں بچوں اور نوعمر افراد کو بہتر تحفظ مہیا کرنے کی ہنگامی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ 

اختیار، رواج اور خوف

ماما فاطمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے بہت سے واقعات سامنے نہیں آتے۔ طاقت و اختیار کا رائج نظام، نقصان دہ صنفی رسوم و رواج، انتقامی کارروائی اور کام کے مواقع چھن جانے کا خوف اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ 

ان عوامل سے ایسا ماحول تخلیق پاتا ہے جس میں بااختیار لوگ کمزور بچوں بشمول ابھرتے ہوئے اداکاروں کو بلاخوف و خطر استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تفریحی صنعت میں بچوں کو جنسی مقاصد کے لیے تیار کرنے جیسا طرزعمل معمول کی بات سمجھا جاتا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اس صنعت کی عالمگیر نوعیت کے باعث یہ مسائل کسی ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ دنیا بھر میں عام ہیں۔ اس سے ان واقعات کی روک تھام اور تحفظ کے ناکافی اقدامات اور احتساب کے نظام و انصاف تک رسائی کے حوالے سے اہم سوالات ابھرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی سمگلر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بچوں سے رابطہ کرتے ہیں اور محفوظ آن لائن سرگرمیوں کے حوالےسے ان کے محدود علم سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
© UNICEF/Ueslei Marcel
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی سمگلر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بچوں سے رابطہ کرتے ہیں اور محفوظ آن لائن سرگرمیوں کے حوالےسے ان کے محدود علم سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

متاثرین کی بے بسی

دنیا بھر میں لاکھوں لوگ جنگوں اور تشدد سے جان بچا کر یا دیگر نامساعد حالات کے باعث نقل مکانی کرتے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں اپنے خاندان کا ساتھ میسر نہیں ہوتا اور انہیں اپنی بقا کے لیے تفریحی صنعت میں کام پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے عموماً دھوکہ دہی پر مبنی پیشکش، گمراہ کن وعدوں اور اپنی امیدوں اور خوابوں کے استحصال کے ذریعے فنکاروں یا تفریح کاروں کے طور پر کام کے لیے بھرتی کیے جاتے ہیں یا سمگلنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ 

ماما فاطمہ نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی اور استحصال سے متاثرہ بچوں کے مسئلے پر عموماً خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اس کا اعتراف نہیں ہوتا، ان واقعات کی تحقیقات نہیں کی جاتیں، متاثرین کو دھمکایا جاتا ہے اور ان کے نقصان کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ 

انہوں نے اس صورتحال میں تبدیلی اور بچوں کو لاحق خطرات میں کمی لانے کے طریقے وضع کرنے پر زور دیا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ایسی کوششوں میں بچوں کی شمولیت یقینی بنانا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے تفریحی صنعت میں افراد یا کاروباروں کے طرزعمل کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ 

آن لائن تحفظ کی ضرورت

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی سمگلر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بچوں سے رابطہ کرتے ہیں اور محفوظ آن لائن سرگرمیوں کے حوالےسے ان کے محدود علم سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فحش فلموں کی صنعت میں بھی بچوں کا استحصال عام ہے جس میں انہیں سرحد پار سمگلنگ کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے آن لائن تحفظ کے اقدامات اور اس معاملے میں ممالک اور اداروں کے مابین قریبی تعاون کی سفارش کی ہے۔

خصوصی اطلاع کار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کا مسئلہ تفریحی صںعت کے ہر پہلو میں موجود ہے۔
© UNICEF/Vincent Tremeau
خصوصی اطلاع کار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کا مسئلہ تفریحی صںعت کے ہر پہلو میں موجود ہے۔

مسائل کا حل

خصوصی اطلاع کار نے کہا ہے کہ تفریحی صنعت میں بچوں کی صحت، حفاظت، نجی زندگی اور بہبود یقینی بنانے کے بہت سے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں بچوں کا استحصال کرنے اور ان سے بدسلوکی پر مبنی ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف قانونی دائرہ کار میں سخت پالیسی کا نفاذ بھی شامل ہے۔

انہوں ںے تفریحی کاروبار میں بچوں کو تحفظ دینے کے لیے کاروباری مالکان کے ساتھ شراکتیں قائم کرنے اور نگرانی و احتساب کے طریقہ ہائے کار وضع کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

خصوصی اطلاع کار و ماہرین

خصوصی اطلاع کار اور حقوق کے دیگر ماہرین اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے متعین کیے جاتے ہیں۔ انہیں خصوصی موضوعاتی امور یا ممالک کی صورتحال کی نگرانی کرنے اور اپنی رپورٹ دینے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ یہ اطلاع کار یا ماہرین اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔