انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار میں عوام کو ناقابل برداشت مظالم کا سامنا، وولکر ترک

روہنگیا مہاجرین خلیج بنگال کے راستے بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار پہنچ رہے ہیں۔
© UNICEF/Patrick Brown
روہنگیا مہاجرین خلیج بنگال کے راستے بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار پہنچ رہے ہیں۔

میانمار میں عوام کو ناقابل برداشت مظالم کا سامنا، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے کہا ہے کہ میانمار میں لوگوں کو ناقابل برداشت تکالیف اور مظالم کا سامنا ہے جنہیں عالمی سطح پر جائز توجہ نہیں مل رہی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا ہے کہ ملک میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والے انسانی بحران نے حالیہ مہینوں میں بدترین صورت اختیار کر لی ہے۔

Tweet URL

تین سالہ فوجی اقتدار میں لوگوں کو شدید مصائب جھیلنا پڑے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ملک کے طول و عرض میں خانہ جنگی بھی شدت اختیار کر گئی ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ فوج کی جانب سے شہروں اور قصبوں پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ 

زندگی کی ہولناک توہین

وولکر تُرک نے مصدقہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فروری 2021 کے بعد فوج کے ہاتھوں 4,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ متاثرین کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ 

انسانی زندگی کی خوفناک توہین کے علاوہ ملک بھر میں بنیادی حقوق اور قانون کی دیگر کھلی پامالیاں بھی عام ہیں۔ انہوں نے ایسی شہادتوں کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق متعدد واقعات میں فوج نے خواتین سمیت سیکڑوں افراد کو زندہ جلا ڈالا یا ہلاک کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے دفتر کو پولیس تھانوں، فوج کے تفتیشی مراکز اور قید خانوں میں سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ہولناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ آج میانمار میں 3,909 خواتین سمیت فوج کے 20,000 مخالفین کو قید کا سامنا ہے۔ لوگوں کو خوف ہے کہ انہیں کسی بھی وقت کسی بھی الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

بین النسلی کشیدگی

ہائی کمشنر نے بتایا کہ فوج انتہائی درجے کی قوم پرست ملیشیاؤں کو بین النسلی کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ راخائن ریاست میں یہ کشیدگی اور تشدد غیرمعمولی حدود کو چھو رہا ہے جہاں لوگوں پر بم برسائے جا رہے ہیں اور ان کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہے۔

راخائن ریاست 2017 میں اس وقت بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی تھی جب روہنگیا نسل کے لاکھوں لوگوں کو وہاں سے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ اس وقت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے اسے نسلی صفائی کی واضح مثال قرار دیا تھا۔ 

عالمگیر یکجہتی کی ضرورت

گزشتہ برس تقریباً 5,000 روہنگیا افراد نے زندگی گزارنے کے لیے محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں کشتیوں پر خطرناک سمندری سفر اختیار کیے اور سیکڑوں لوگ میانمار کے دوسرے علاقوں کی جانب فرار کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔

ہائی کمشنر نے ملک میں شہریوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کیا۔ 

وولکر تُرک نے ملک کو گرفت میں لیتے حقوق کے بحران پر قابو پانے کے لیے عالمگیر یکجہتی اور مدد کی ضرورت واضح کی اور میانمار کی فوج کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے کہا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برس سے میانمار کے لوگوں نے ہر طرح کی قربانیاں دے کر بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے اپنی امیدوں کو زندہ رکھا ہے۔ انہیں پوری عالمی برادری کی جانب سے تعاون کی ضرورت ہے۔