ایڈز بارے صفر تعصب کے دن حقوق کی بڑھتی پامالیوں پر تشویش
امتیازی سلوک کے خاتمے کے 10 ویں عالمی دن پر ایڈز کی روک تھام کے عالمی ادارے (یو این ایڈز) نے کہا ہے کہ صنف، جنس یا ایچ آئی وی کی صورتحال سے قطع نظر سبھی کے لیے مساوات اور شفافیت کو فروغ دینے کا کام خطرے سے دوچار ہے۔
'یو این ایڈز' کا مقصد پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت 2030 تک دنیا میں ایڈز پر قابو پانا ہے۔ دس سال پہلے اسی نے یہ دن منانے کا آغاز کیا تھا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بعض جگہوں پر بہتری آنے کے باوجود خواتین اور لڑکیوں، ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
'یو این ایڈز' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیما نے کہا ہے کہ حقوق پر حملے آزادی و جمہوریت کے لیے خطرہ اور صحت کا نقصان ہیں۔ بدنامی اور تفریق ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص، علاج اور مریضوں کی نگہداشت میں رکاوٹ ہیں جن سے 2030 تک ایڈز کا خاتمہ کرنے کی جانب پیش رفت میں خلل آتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر فرد کے حقوق کی حفاظت ہی ہر فرد کی صحت کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
بدنامی اور تفریق کے خاتمے کا عہد
40 سال قبل ایڈز کی وبا کے آغاز پر دنیا کے دو تہائی ممالک میں ایل جی بی ٹی کیو آئی+ افراد مجرم متصور ہوتے تھے۔ آج دو تہائی ممالک میں یہ صورتحال نہیں ہے۔
تقریباً 38 ممالک نے ایچ آئی وی سے وابستہ بدنامی اور تفریق کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے اور آج 2015 کے مقابلے میں 50 ملین مزید لڑکیاں سکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔
'یو این ایڈز' کا کہنا ہے کہ جنگوں کے خاتمے اور نسلی، معاشی و موسمیاتی انصاف کے لیے مہمات اور خواتین و ایل جی بی ٹی کیو آئی+ افراد کے حقوق کی تحریکوں کی مدد جاری رکھنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کا مددگار کردار
اس دن پر ادارے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں کا حامی ہے اور عملی طور پر ان کا ساتھ دے رہا ہے۔
اس دن پر اور مارچ کے پورے مہینے میں ایسے پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں دنیا کو 'سبھی کی صحت کے تحفظ سے سبھی کے حقوق کے تحفظ' کا اہم سبق یاد دلایا جائے گا اور اس حوالے سے عملی اقدامات کے لیے کہا جائے گا۔
ونی بیانیما کا کہنا ہے کہ تمام لوگوں کے حقوق کو برقرار رکھنے سے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول اور تمام لوگوں کے لیے دنیا کو محفوظ، منصفانہ، مہربان اور خوش باش بنانے میں مدد ملے گی۔