ٹیکنالوجی گلوبل ساؤتھ کے شعبہ محنت میں ’عدم استحکام‘ کا سبب
عام رائے کے مطابق دور حاضر میں ٹیکنالوجی ہی ترقی کی ضامن ہے لیکن عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض ٹیکنالوجی کی بدولت معاشی فروغ اور بنیادی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔
اگرچہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نچلے اور نچلے متوسط درجے کی آمدنی والی معیشتوں میں بھی اداروں اور حالات کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ لیکن کوئی واضح شہادت نہیں ملتی کہ ان تبدیلیوں کی بدولت ترقی پذیر ممالک اسی طرح معاشی خوشحالی پا سکتے ہیں جس طرح موجودہ ترقی یافتہ ممالک نے کبھی صنعتی ترقی کے ذریعے حاصل کی تھی۔
'آئی ایل او' کے زیراہتمام شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک جنہیں عرف عام میں عالمی جنوب (Global South) کہا جاتا ہے میں بنیادی اور تعمیری اصلاحات لانے میں ڈیجیٹلائزیشن کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔
ترقی کا 'سراب'
'ترقی پذیر معیشتوں میں آن لائن خدمات: کیا ڈیجیٹلائزیشن بنیادی تبدیلی کا محرک ہو سکتی ہے؟' کے عنوان سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں آن لائن مہیا کی جانے والی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں سافٹ ویئر پروگرامنگ جیسی پیشہ وارانہ خدمات اور ڈاک تقسیم کرنے، ڈرائیونگ اور نگہداشت مہیا کرنے جیسے کام نمایاں ہیں۔
محققین سارا کُک اور اوما رانی نے عالمی جنوب کے محنت کشوں کے تجربات اور ان کے حالات کار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ جائزہ لیا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن سے انسان دوست، مشمولہ اور پائیدار ترقی میں کیسے مدد مل سکتی ہے۔
پہلے سے لیے گئے جائزوں، شہادتوں اور بات چیت کی بنیاد پر یہ تازہ ترین تحقیق بتاتی ہے کہ غیررسمی شعبے کے محنت کش ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت اپنے کام کے حوالے سے خود کو مزید غیرمحفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔ڈیجیٹلائزیشن میں اضافے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت کارکنوں کو بھی غیریقینی حالات کار کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں انہیں کم تنخواہ پر، غیرصحت مند اور جابرانہ ماحول میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت کھلنے والے نئے مواقع سے مقامی معیشت کو بھی ٹھوس فائدہ نہیں پہنچتا یا مفید بنیادی تبدیلی لانے میں سہولت نہیں ملتی۔
تبدیلی کیسے ممکن ہے؟
اس تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ڈیجیٹلائزیشن عام طور پر کمزور ریاستی و ادارہ جاتی اہلیت، محدود مالی وسائل، بڑے پیمانے پر عدم مساوات اور بے روزگاری یا روزگار کی کمی اور صرف بڑے کاروباری اداروں کو فائدہ پہنچانے والی معاشی سرگرمی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔
بڑے پیمانے پر ایسی شہادتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ ترقی کا محرک ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس میں دیگر سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین نے پالیسی کے حوالے سے ایسے اہم اقدامات کی جانب توجہ بھی دلائی ہے جو مستحکم، منصفانہ اور مشمولہ ترقی کی خاطر ڈیجیٹل معاشی تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس میں کاروباروں کے لیے ضوابط کی تشکیل، سماجی تحفظ، محنت کشوں کی یونین سازی اور معلومات کی شفافیت خاص طور پر اہم ہیں۔