سال 2023 میں فضائی کمپنیوں نے 39 ارب ڈالر منافع کمایا
شہری ہوابازی کے بین الاقوامی ادارے (آئی سی اے او) نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں سال فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں 2019 کے مقابلے میں 2 فیصد اضافہ ہو گا اور فضائی کمپنیاں گزشتہ برس ہونے والا منافع برقرار رکھیں گی۔
متوقع طور پر فضائی سفر کی طلب 2019 کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد زیادہ رہے گی۔ جن فضائی راستوں پر ٹریفک کووڈ۔19 وباء سے پہلے کی سطح پر بحال نہیں ہوئی وہاں بہتری کی صورت میں یہ اضافہ 4 فیصد تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
'آئی سی اے او' کی کونسل کے صدر سلواتور ساشیٹانو نے کہا ہے کہ ممالک کی جانب سے کووڈ وباء کے خلاف اقدامات کو ادارے کی رہنما ہدایات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا فضائی خدمات کی بحالی کے لیے بہت ضروری ہے۔
'آئی سی اے او' اقوام متحدہ کا ادارہ ہے جو اس کے تمام 193 رکن ممالک میں ہوابازی اور فضائی سفر کے شعبوں میں محفوظ و مامون اور پائیدار ترقی کے لیے تکنیکی معیارات اور حکمت عملی کو ہم آہنگ کرتا ہے۔
استحکام و ترقی
ادارے کے سیکرٹری جنرل خوآن کارلوس سالازار نے کہا ہے کہ 2050 تک فضائی نقل و حمل سے کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے حکومتوں کے طے کردہ اہداف کی بدولت بحالی کے عمل میں ماحولیاتی استحکام آئے گا۔ علاوہ ازیں، ایسے اقدامات عالمگیر فضائی نقل و حمل کے نظام کو مزید ترقی دیں گے۔
'آئی سی اے او' کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی کی جانب تیزرفتار متنقلی، عملیاتی بہتری اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے درکار ماحول دوست توانائی کے استعمال جیسے اقدامات سے اس ترقی اور استحکام میں مزید اضافہ ہو گا۔
تاہم یہ تمام توقعات اسی صورت پوری ہو سکتی ہیں جب بین الاقوامی فضائی نقل و حمل کو لاحق خطرات میں اضافہ نہ ہو۔
فضائی ٹریفک میں اضافہ
'آئی سی اے او' کے تازہ ترین تجزیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے آخر تک بیشتر راستوں پر فضائی ٹریفک وباء سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی یا اس سے تجاوز کر چکی تھی۔ ادارے نے پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ 2023 کے آخر تک بین الاقوامی فضائی ٹریفک وباء سے پہلے (2019) کی سطح کو چھو لے گی۔
درج ذیل بڑے علاقائی راستوں پر فضائی نقل و حمل 2019 کی سطح سے تجاوز کر چکی ہے۔
- یورپی ممالک کے مابین
- یورپ اور شمالی امریکہ، مشرق وسطیٰ، جنوب مغربی ایشیا اور افریقہ کے مابین
- شمالی امریکہ سے لاطینی امریکہ و غرب الہند، جنوب مغربی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور الکاہل خطے کے مابین
- مشرق وسطیٰ سے جنوبی مغربی ایشیا اور افریقہ کے مابین
تاہم گزشتہ برس جنوب مشرقی ایشیا کے علاوہ بیشتر بین الاقوامی ایشیائی راستوں پر یہ استحکام 2019 یا قبل از وبا دور کی سطح پر نہیں پہنچ سکا۔
مال بردار نقل و حمل میں کمی
2023 میں مال بردار فضائی نقل و حمل (ایف ٹی کے) 2019 کے مقابلے میں 3 فیصد کم رہی جس سے دنیا بھر میں معاشی کمزوری کی عکاسی ہوتی ہے۔
ایندھن کی بلند قیمتوں اور معاشی اعتبار سے غیریقینی حالات کے باوجود گزشتہ برس فضائی کمپنیوں کا مجموعی منافع 39 ارب ڈالر رہا جو کہ 2019 میں انہیں حاصل ہونے والے منافع کے مساوی ہے۔
اس کی بڑی وجہ مسافروں سے کرایوں کی مد میں آنے والی آمدنی میں اضافہ اور اس صنعت کو حاصل ہونے والے پیداواری فوائد ہیں۔ حسب سابق گزشتہ برس بھی اس صنعت کے منافع میں بڑا حصہ شمالی امریکہ اور یورپ کی فضائی کمپنیوں کا تھا۔