انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شعبہِ ٹرانسپورٹ میں کاربن کا اخراج کم کرنے کی پالیسی منظور

نقل و حمل کا نظام دنیا بھر میں ہر سال خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے 23 فیصد کا ذمہ دار ہے۔
UN News/Yun Zhao
نقل و حمل کا نظام دنیا بھر میں ہر سال خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے 23 فیصد کا ذمہ دار ہے۔

شعبہِ ٹرانسپورٹ میں کاربن کا اخراج کم کرنے کی پالیسی منظور

پائیدار ترقی کے اہداف

اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 'ازالہ کاربن کی بین الاقوامی حکمت عملی' منظور کر لی ہے جس سے سڑکوں، ریل اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں پر نقل و حمل میں کاربن کے اخراج پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

یہ حکمت عملی اقوام متحدہ کے معاشی کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) کی 'اندرون ملک ٹرانسپورٹ کمیٹی' (آئی ٹی سی) نے تیار کی ہے جسے 23 فروری کو منظور کیا گیا۔

Tweet URL

اس حکمت عملی کا مقصد اندرون ملک نقل و حمل میں وسیع تر بنیادی تبدیلیاں لانا اور وسط و طویل مدتی منصوبوں کے ذریعے 2050 تک کاربن کے اخراج کے حوالے سے نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ اس ضمن میں 'آئی ٹی سی' کے دائرہ کار میں اقوام متحدہ کے 61 قانونی معاہدوں اور کمیٹی کے ابتدائی موسمیاتی لائحہ عمل سے مدد لی جائے گی اور اس کے لیے اہداف بھی مقرر کیے جائیں گے

کاربن کے اخراج میں نقل و حمل کا کردار

نقل و حمل کا نظام دنیا بھر میں ہر سال خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے 23 فیصد کا ذمہ دار ہے جس میں اندرون ملک سفری ذرائع کا حصہ 72 فیصد ہے۔ اس میں 69 فیصد کاربن سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں، دو فیصد ممالک کے اندر آبی گزرگاہوں میں چلنے والے جہازوں اور کشتیوں جبکہ ایک فیصد ریل سے خارج ہوتی ہے۔ 

اندازے کے مطابق 2050 تک ذرائع سفر کی مانگ میں 79 فیصد تک اضافہ ہو گا جبکہ مال بردار نقل و حمل 100 فیصد بڑھ جائے گی۔

عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا اس قدر بڑا ذمہ دار ہونے کے باعث نقل و حمل کے بین الاقوامی شعبے کو کاربن میں کمی لانے کے لیے فوری اور پُرعزم اقدامات کی ضرورت ہے۔ 

پیرس معاہدے کے اہداف کی تکمیل

'یو این ای سی ای' کی ایگزیکٹو سیکرٹری تاتیانا مولسن کہتی ہیں کہ اس حکمت عملی سے ممالک کو پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں مدد ملے گی۔

کاربن کا اخراج کم کر کے دنیا بجلی پر انحصار کرنے والے ذرائع نقل و حمل کی جانب بڑھے گی اور اس ضمن میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ترجیحی توجہ دی جائے گی جبکہ سماجی سطح پر بھی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

یہ تبدیلی لانے کے لیے ممالک کو اپنے لوگوں کو مالی ترغیبات دینے کے علاوہ پالیسی سے متعلق خصوصی طریقہ کار بھی وضع کرنا ہوں گے۔

حکمت عملی کے اہم نکات

  • کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ترجیحی بنیادوں پر کام ہو گا اور اس کے ساتھ سائیکل سواری اور مختصر فاصلوں پر پیدل سفر کے فروغ پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
  • شہری علاقوں میں مال بردار نقل و حمل کے نئے طریقے اختیار کیے جائیں گے۔ 
  • گاڑیوں، بنیادی ڈھانچے اور سرحدی گزرگاہوں سے نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لائی جائیں گی۔
  • بہتر انضباطی طریقہ ہائےکار، پالیسی کے حوالے سے بین الحکومتی بات چیت اور تمام متعلقہ فریقین کے مابین تعاون کے لیے کام کیا جائے گا۔
  • توانائی اور ایندھن (جیسا کہ ہائیڈروجن) کے شعبے میں ایسی ٹیکنالوجی پر تحقیق و ترقی کو فروغ دیا جائے گا جس سے نیٹ زیرو کا ہدف حاصل ہو سکے۔ 
  • کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی پالیسیاں، اس مقصد کے لیے قانونی اقدامات اور ان کی نگرانی کے نظام وضع کیے جائیں گے۔
  • معدنی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کو توانائی کی بچت کرنے والی گاڑیوں سے تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
  • توانائی کی بچت اور ڈرائیونگ کے بہتر طریقوں کو فروغ دیا جائے گا۔ 
  • نقل و حمل کے خودکار نظام کے استعمال اور اسے ڈیجیٹل صورت دینے پر زور دیا جائے گا۔