’زندہ دریائے سندھ‘ ماحولیاتی بحالی کے دنیا کے سات بڑے منصوبوں میں شامل
پاکستان میں تیزی سے انحطاط کا شکار ہوتے دریائے سندھ کے طاس کو بچانے کے اقدام 'زندہ دریائے سندھ' کو ماحولیاتی نظام کی بحالی سے متعلق اقوام متحدہ کے سات بڑے منصوبوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔
’لیونگ انڈس‘ یا ’زندہ دریائے سندھ‘ اقدام پاکستان کے مستحکم موسمیاتی مستقبل کا ضامن ہے۔ اس سے آبی ذرائع کے پائیدار انتظام اور ان کے استعمال میں توازن کے قیام، ماحولیاتی نظام کے تحفظ، آلودگی میں کمی، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور سماجی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔
’زندہ دریائے سندھ‘ کے ذریعے 13 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر رقبہ پہلے ہی بحال کیا جا چکا ہے۔ یہ اقدام 25 منصوبوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس پر اندازاً 17 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے بڑے منصوبوں (ورلڈ ریسٹوریشن فلیگ شپ) میں شامل کیے جانے سے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی اضافی تکنیکی و مالیاتی مدد میسر ہو گی۔ اس کے تحت 2030 تک دریائی طاس کے 25 ملین ہیکٹر رقبے کو بحال کرنے کے ذیلی منصوبے میں مدد ملے گی۔ یہ پاکستان کے مجموعی رقبے کے 30 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
تحفظِ ماحول کا نادر موقع
دریائے سندھ کا طاس ممالیہ کی 195 انواع، پرندوں کی 668 اور مچھلیوں کی 150 سے زیادہ انواع کا مسکن ہے۔ جن میں دنیا کی کمیاب مچھلیوں میں شمار ہونے والی انڈس ڈولفن سمیت معدومیت کے خطرے سے دوچار 22 انواع بھی شامل ہیں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے ایک انتہائی تباہی کن سیلاب اور گرمی کی شدید لہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ فضائی آلودگی بھی انتہائی حدود کو چھو رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے ان مسائل کو اور بھی شدید بنا دیا ہے جس سے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ 'زندہ دریائے سندھ' اقدام موسمیاتی تبدیلی کے سامنے دریائے سندھ کے ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانے کا ایک نادر موقع ہے۔ کلی نوعیت کی اس حکمت عملی کے تحت پاکستان میں دریائے سندھ کے پورے طاس کی بحالی کے لیے مقامی لوگوں کے زیرقیادت، صنفی اعتبار سے حساس، شفافیت کے حامل اور فطری بنیاد پر اختیار کیے گئے طریقہ ہائے کار کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان کے لوگوں کے لیے دریائے سندھ کے فوائد کو تحفظ ملے گا۔
امید اور استحکام
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اِنگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو موسمیاتی حادثات کے افسوسناک نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حادثات کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو برداشت کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے 'زندہ دریائےسندھ' جیسے منصوبوں کی اہمیت کو تسلیم کرنا اور انہیں مدد دینا بہت اہم ہے تاکہ ان سے پاکستان اور پورے خطے کو امید اور استحکام مل سکے۔
فطری بنیاد پر اختیار کردہ طریقہ ہائے کار کے ذریعے حیاتیاتی تنوع کے فروغ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے اور مقامی سطح پر مضبوطی لانے کی ان کوششوں میں مقامی لوگ اور سول سوسائٹی کے گروہ بھی حکومت کو مدد دے رہے ہیں۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے سابق ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہارنس نے بتایا ہے کہ پاکستان اور یہاں کے لوگ پچھلے 6,000 سال سے دریائے سندھ کے طاس میں رہتے چلے آئے ہیں۔ آج ملک کی 95 فیصد آبادی، تمام تر زراعت اور بیشتر صنعتوں کا کا دارومدار اسی دریا پر ہے۔ لیکن دریائے سندھ کو ناصرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نقصان ہو رہا ہے بلکہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ماحولیاتی انحطاط بھی اس کی زندگی کے درپے ہے۔ 'زندہ دریائے سندھ' اس دریا کی صحت کو بحال کرنے کی کثیرفریقی کوشش ہے۔ اس میں حکومت، سول سوسائٹی، اقوام متحدہ اور دریائے سندھ کے مستقبل کو تحفظ دینے میں مدد فراہم کرنے والے تمام ممالک شامل ہیں۔
ماحولیاتی بحالی کی بہترین مثال
'ورلڈ ریسٹوریشن فلیگ شپ' کی حیثیت سے 'زندہ دریائے سندھ' اقدام کو کسی ملک یا خطے میں ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر اور طویل مدتی اقدامات کی بہترین مثال قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام 'ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے عشرے' کے 10 اصولوں کی تجسیم ہے۔
اقوام متحدہ کے یہ منصوبے یو این ای پی اور ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے زیرقیادت شروع کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد ہر براعظم اور ہر سمندر میں ماحولیاتی نظام کے انحطاط کو روکنا، ماحول کو بچانا اور اسے بہتر حالت میں بحال کرنا ہے۔ ان اقدامات کے تحت دنیا بھر میں ایک ارب ہیکٹر رقبے کی بحالی کے لیے 'زندہ دریائے سندھ' جیسے نمایاں اقدامات کے حوالے سے پیش رفت پر نظر رکھی جاتی ہے۔
ماحولیاتی بحالی کے سات نئے منصوبوں کا اعلان اقوام متحدہ کی چھٹی ماحولیاتی اسمبلی (یو این ای اے۔6) سے قبل کیا گیا ہے جو 26 فروری سے یکم مارچ 2024 تک کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کی حکومتوں کے وزرائے ماحولیات موسمیاتی تبدیلی، فطری و ماحولیاتی انحطاط اور آلودگی و فضلے کی صورت میں کرہ ارض کو درپیش سہ رخی بحران پر قابو پانے کے لیے بات چیت کریں گے۔