انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلسطینی خواتین اور لڑکیوں سے مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

غزہ میں جاری جنگ کے دوران ایک بم دھماکے کی وجہ سے 26 سالہ حاملہ خاتون سُندس کا فوری آپریش کرنا پڑا اور انہون نے اپنی نومولود بیٹی کا نام حبیبہ رکھا ہے جو ان کی بڑی بیٹی کا نام تھا جو بمباری میں ہلاک ہو چکی ہے۔
© UNFPA/Bisan Ouda
غزہ میں جاری جنگ کے دوران ایک بم دھماکے کی وجہ سے 26 سالہ حاملہ خاتون سُندس کا فوری آپریش کرنا پڑا اور انہون نے اپنی نومولود بیٹی کا نام حبیبہ رکھا ہے جو ان کی بڑی بیٹی کا نام تھا جو بمباری میں ہلاک ہو چکی ہے۔

فلسطینی خواتین اور لڑکیوں سے مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ ماہرین نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو دانستہ ہلاک کیے جانے اور ان پر جنسی تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یو این ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی خواتین کو دانستہ نشانہ بنانے اور انہیں ہلاک کیے جانے کی اطلاعات ہولناک ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بعض واقعات میں اسرائیلی فوج نے جن خواتین کو ہلاک کیا گیا انہوں نے ہاتھوں میں امن کی علامت کے طور پر سفید کپڑے تھام رکھے تھے۔

Tweet URL

یہ بیان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد، اس کی وجوہات اور نتائج کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ریم السالم اور فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی اطلاع کار فرانچسکا البانیز نے جاری کیا ہے۔

انہوں نے خواتین کی ناجائز گرفتاری اور دوران حراست ان سے جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 

پناہ گاہوں میں ہلاکتیں

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینی پناہ گاہوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں متعدد خواتین کو ان کے بچوں اور اہلخانہ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ یہ خواتین غیرمسلح تھیں اور بظاہر انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ 

اطلاعات کے مطابق، بہت سی خواتین قیدیوں کو غیرانسانی اور توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں ایام حیض میں صحت و صفائی کے لیے استعمال ہونے والے سامان، خوراک اور ادویات سے محروم رکھا گیا۔ 

علاوہ ازیں، ان قیدیوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ کم از کم ایک واقعے میں فلسطینی خاتون کو بارش اور سردی میں خوراک کے بغیر ایک پنجرے میں قید رکھا گیا۔ 

دوران قید جنسی تشدد

ماہرین نے فلسطینی خواتین کو دوران قید جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر خاص تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں دوران قید انہیں برہنہ کرنے اور مرد اہلکاروں کی جانب سے ان کی تلاشی لینے کے واقعات بھی شامل ہیں۔  

اطلاعات کے مطابق کم از کم دو خواتین قیدیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور دیگر کو جنسی زیادتی اور تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔ اسرائیل کی فوج نے خواتین قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے توہین آمیز سلوک کی تصاویر بھی لیں اور انہیں آن لائن پوسٹ کیا۔ 

ماہرین نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھ لگنے کے بعد متعدد فلسطینی خواتین اور بچوں بشمول نوعمر لڑکیوں کے لاپتہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک واقعے میں ایک فلسطینی خاتون کے نومولود بچے کو اس سے جبراً علیحدہ کر کے اسرائیل بھجوا دیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد بچوں کو ان کے والدین سے الگ کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر ریم السالم۔
UN Photo/Rick Bajornas
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی خصوصی ماہر ریم السالم۔

تحقیقات کا مطالبہ

ماہرین نے ایسے واقعات کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ، فوری، مفصل اور موثر تحقیقات کے لیے کہتے ہوئے اسرائیل سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ 

انہوں نے اسرائیل کی حکومت کو فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کی زندگی، تحفظ، صحت اور وقار کے حق کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تشدد، بدسلوکی یا توہین آمیز سلوک بشمول جنسی تشدد سے ان کا تحفظ یقینی بنائے۔ 

ماہرین نے خبردار کیا ہے مجموعی طور پر یہ الزامات انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے اقدامات بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت سنگین جرم کی ذیل میں آتے ہیں جن پر روم معاہدے کے تحت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

روم معاہدہ 1998 میں طے پایا تھا جس کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) قائم کی گئی۔ یہ عدالت قتل عام (نسل کشی)، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت کے جرم کی تحقیقات کرتی ہے۔

غیرجانبدار ماہرین

ریم السالم اور فرانچسکا البانیز کے ساتھ یہ بیان جاری کرنے والوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے ارکان ڈورتھی ایسٹراڈا ٹینک (چیئرپرسن)، کلاڈیا فلورس، ایوانکا کرسٹک، ہائنا لو اور لارا نیرنکنڈی شامل ہیں۔ 

خصوصی اطلاع کار اور غیرجانبدار ماہرین انسانی حقوق کے حوالے سے ممالک کی صورتحال یا مخصوص موضوعاتی مسائل پر اقوام متحدہ کو اطلاعات اور مشاورت مہیا کرتے ہیں۔ 

یہ اطلاع کار یا ماہرین کسی حکومت یا ادارے کے ماتحت نہیں ہوتے اور رضاکارانہ بنیاد پر انفرادی حیثیت میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ نہ تو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے کام کا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔