انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا کے ایک ارب چالیس کروڑ بچے سماجی تحفظ سے محروم

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں ایک کچی بستی کے بچے۔
© UNDP Bangladesh/Fahad Kaizer
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں ایک کچی بستی کے بچے۔

دنیا کے ایک ارب چالیس کروڑ بچے سماجی تحفظ سے محروم

پائیدار ترقی کے اہداف

دنیا بھر میں 15 سال سے کم عمر کے ایک ارب 40 کروڑ بچوں کو بنیادی سماجی تحفظ سے محرومی کے باعث بیماریوں، ناقص غذائیت اور غربت کا سامنا ہے۔

کم آمدنی والے ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ بچوں کو حکومت کی مالی مدد میسر نہیں ہوتی۔ یہ بچے غربت سے بچنے کے لیے درکار وسائل اور خدمات سے محروم رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بھوک، غذائی قلت اور تعلیم و صحت کی خدمات سے محرومی کے طویل مدتی اثرات کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او)، ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور غیرسرکاری ادارے 'سیو دی چلڈرن' نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تمام بچوں کو سماجی تحفظ مہیا کریں۔ 

غربت کا شکار ایک ارب بچے

سماجی تحفظ مراد بچوں کے والدین کو نقد یا محصولات میں چھوٹ کی صورت میں دی جانے والی مدد ہے جس کا مقصد ان کی طویل مدتی بہبود ممکن بنانا ہے۔ اس سے غربت میں کمی لانے، طبی سہولیات تک رسائی، غذائیت، مساوی تعلیم، پانی اور صحت و صفائی کی خدمات کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ ان فوائد سے بالخصوص بحرانوں کے وقت بھی سماجی معاشی ترقی جاری رہتی ہے۔

'یونیسف' میں سماجی پالیسی اور تحفظ کے شعبے کی ڈائریکٹر نتالیا ونڈر روزی نے کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں 333 ملین بچے شدید غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جنہیں روزانہ 2.15 ڈالر سے کم پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ارب بچے ایسے ہیں جنہیں کثیرجہتی غربت کا سامنا ہے۔ غربت کے خاتمے سے متعلق پائیدار ترقی کا ہدف موجودہ رفتار سے کیے جانے والے اقدامات سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ غربت کے خلاف جنگ میں بچوں کے لیے سماجی تحفظ کو وسعت دینا ضروری ہے۔ 

سماجی تحفظ کی علاقائی صورتحال (2009 تا 2023)

  • مشرقی ایشیا اور الکاہل خطے میں سماجی تحفظ سے مستفید ہونے والے بچوں کی شرح 9.2 فیصد سے بڑھ کر 16.0 فیصد ہو گئی۔ 
  • افریقہ کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں یہ شرح 9.6 سے بڑھ کر 12.3 تک جا پہنچی۔ 
  • مغربی اور وسطی افریقہ میں سماجی تحفظ پانے والے بچوں کی شرح 3.1 سے 11.8 اور مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں 59.0 فیصد سے بڑھ کر 61.4 فیصد ہو گئی۔ 
  • شمالی امریکہ کے ممالک میں اس شرح نے 78.1 فیصد سے بڑھ کر 84.0 فیصد کو چھوا۔ 
  • مغربی یورپ میں سماجی تحفظ پانے والے بچوں کی تعداد 91.0 فیصد سے بڑھ کر 93.2 فیصد ہو گئی۔ 
  • لاطینی امریکہ اور غرب الہند کے ممالک میں 14 سال کے عرصہ میں یہ شرح میں 30.8 سے بڑھ کر 41.9 فیصد تک پہنچی۔
  • مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں یہ شرح 22.7 فیصد سے 32.5 فیصد جبکہ جنوبی ایشیا میں 9.2 فیصد سے بڑھ کر 24.3 فیصد ہو گئی۔

'آئی ایل او' میں شعبہ سماجی تحفظ کی ڈائریکٹر شاہرا رضاوی کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سماجی تحفظ کی فراہمی کے لیے موثر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ مختلف علاقوں میں بچوں کو سماجی تحفظ کی فراہمی اور اس حوالے سے پیش رفت میں عدم مساوات سنگین تشویش کی حامل ہے۔

صومالیہ کے ایک سیلاب زدہ علاقے میں بچوں کو پلاسٹک بیرل سے بنی کشتی میں محفوظ مقام پر پہنچایا جا رہا ہے۔
© WFP/Arete/Abdirahman Yussuf Mohamud
صومالیہ کے ایک سیلاب زدہ علاقے میں بچوں کو پلاسٹک بیرل سے بنی کشتی میں محفوظ مقام پر پہنچایا جا رہا ہے۔

موسمیاتی اثرات سے تحفظ

تینوں اداروں کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق 2009 سے 2023 کے درمیانی عرصہ میں سرکاری سطح پر سماجی تحفظ پانے والے بچوں کی تعداد 20 فیصد سے بڑھ کر 28.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم دنیا بھر میں یہ پیش رفت یکساں نہیں ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 9 فیصد ہے جبکہ بہتر آمدنی والے بعض ممالک میں 84.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ 

شدید موسمی اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں بھی یہ شرح دیگر کے مقابلے میں کم ہے۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ بچوں کو موسمیاتی بحران کے بدترین اثرات سے بچانے کے لیے انہیں سماجی تحفظ کی یقینی فراہمی ضروری ہے۔

غربت جانچنے اور ختم کرنے کا اقدام

تینوں اداروں نے بچوں کو سماجی تحفظ کی فراہمی اور اس میں پائی جانے والی کمی کو جانچنے کے لیے 'گلوبل چائلڈ بینیفٹس ٹریکر' کے نام سے ایک آن لائن پلیٹ فارم شروع کیا ہے۔ اس کے تحت حکومتوں اور عطیہ دہندگان کو زیادہ سے زیادہ بچوں تک سماجی فوائد پہنچانے پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت شروع کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں 829 ملین بچے ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جہاں فی کس روزانہ آمدنی 3.65 امریکی ڈالر سے کم ہے۔ 

'سیو دی چلڈرن' میں بچوں کی غربت کے خاتمے سے متعلق عالمگیر پالیسی اور وکالت کے شعبے کے سربراہ ڈیوڈ لیمبرٹ کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک نے سماجی تحفظ پر سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ چائلڈ بینیفٹس ٹریکر کے ذریعے دنیا بھر میں بچوں کی غربت کی شرح کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اس میں کمی لانے کی کامیاب مثالوں کے ذریعے ممالک کو سماجی تحفظ کے پروگراموں میں بچوں کو خاص اہمیت دینے کے اقدامات کی ترغیب دی جاتی ہے۔

مشرقی یوکرین کی ایک تباہ حال رہائشی عمارت میں ایک سہمی ہوئی ماں اپنے بچے کے ساتھ۔
© UNICEF/Aleksey Filippov
مشرقی یوکرین کی ایک تباہ حال رہائشی عمارت میں ایک سہمی ہوئی ماں اپنے بچے کے ساتھ۔

سماجی تحفظ کے لیے درکار اقدامات

تینوں اداروں نے پالیسی سازوں اور عطیہ دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام بچوں کو سماجی تحفظ کی فراہمی کے لیے درج ذیل طریقوں سے فیصلہ کن اقدامات کریں: 

  • سماجی تحفظ کے لیے حقوق پر مبنی، صنفی اور مسائل کے اعتبار سے حساس اور مشمولہ نظام کا قیام اور لڑکیوں، خواتین، معذور، مہاجر اور محنت کش بچوں کے لیے بہتر نتائج کی فراہمی۔ 
  • مالی وسائل کی کمی کو پورا کر کے سماجی تحفظ کی کمی کو دور کرنے کے اقدامات۔ تمام بچوں کو سماجی تحفظ کی فراہمی پر سرمایہ کاری بچوں کی غربت سے نمٹنے اور سبھی کو یقینی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا ثابت شدہ اور کم خرچ طریقہ ہے۔ 
  • سماجی تحفظ کے ایسے قومی نظام کے ذریعے جامع طور سے بچوں کو فوائد کی فراہمی جن سے خاندانوں کو اہم طبی و سماجی خدمات تک رسائی مل سکے۔ 
  • داخلی وسائل اور سرکاری سطح پر بچوں کے لیے سرمایہ کاری کو بڑھا کر سماجی تحفظ کے نظام کے لیے پائیدار مالیات کا انتظام ۔
  • باوقار کام اور مناسب فوائد تک رسائی کی ضمانت کے ذریعے والدین اور بچوں کی نگہداشت کرنے والوں کے لیے بہتر سماجی تحفظ کی فراہمی۔