انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ویلنٹائن ڈے پر نوعمری کی شادی کے خلاف یو این مہم

بچپنے کی شادی کے منفی اثرات نمایاں کرنے کے لیے موزمبیق میں بچوں نے دیوارگیر پینٹنگ بنائی ہے۔
© UNICEF/Bruno Pedro
بچپنے کی شادی کے منفی اثرات نمایاں کرنے کے لیے موزمبیق میں بچوں نے دیوارگیر پینٹنگ بنائی ہے۔

ویلنٹائن ڈے پر نوعمری کی شادی کے خلاف یو این مہم

انسانی حقوق

آج ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اقوام متحدہ کا فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نوعمری کی شادی کے خلاف آگاہی بیدار کر رہا ہے۔

ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا یہ دن محبت، رومان اور ایک دوسرے سے جذباتی وابستگی کے اظہار یا منگنی اور شادی کا موقع ہوتا ہے۔ تاہم، 'یو این ایف پی اے' اس دن #IDONT کے عنوان سے مہم چلاتا ہے جس میں نوعمری کی شادی کے نقصانات اور اسے روکنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ 

ادارے نے یہ مہم 2015 میں شروع کی تھی۔ اس کا مقصد ایسی لڑکیوں کے لیے دنیا کی حمایت کا اظہار بھی ہے جو قبل از وقت شادی سے انکار کرتی ہیں۔

20 لاکھ نوعمر دلہنیں

نوعمری کی شادی سے مراد ایسی شادی یا تعلق ہے جس میں کسی ایک یا دونوں فریقین کی عمر 18 سال سے کم ہو۔ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں یہ رسم عام ہے تاہم ایسی شادیاں دنیا بھر میں ہوتی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک کروڑ 20 لاکھ لڑکیوں کی شادی کے وقت ان کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ 

نوعمری میں شادی پر مجبور کی جانے والی لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں، انہیں تشدد کا سامنا ہوتا ہے اور وہ جسمانی یا جذباتی طور پر مناسب وقت آنے سے پہلے ہی ماں بن جاتی ہیں۔ 

نوعمری کی شادیوں کا خاتمہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کا بھی حصہ ہے جنہیں 2030 تک حاصل کیا جانا ہے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس افسوسناک رسم کو ختم کرنے کی جانب تیزرفتار پیش رفت ممکن نہ بنائی گئی تو 15 کروڑ سے زیادہ لڑکیوں کی نوعمری میں شادی ہو جائے گی۔