انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شکار اور موسمیاتی تبدیلی سے ہجرتی چرند و پرند کو وجودی خطرہ

موسمیاتی تبدیلیوں سے سمندروں کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے سمندری کچھوؤں کو اپنی ہی آماجگاہوں میں خطرہ ہے۔
UNEP/Kyle Babb
موسمیاتی تبدیلیوں سے سمندروں کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے سمندری کچھوؤں کو اپنی ہی آماجگاہوں میں خطرہ ہے۔

شکار اور موسمیاتی تبدیلی سے ہجرتی چرند و پرند کو وجودی خطرہ

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جانوروں کی ہجرتی انواع کو بقا کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں نصف انواع سے تعلق رکھنے والے جانداروں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور 20 فیصد معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کی جاری کردہ اپنی نوعیت کی اس پہلی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حد سے زیادہ شکار اور انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں مساکن کی تباہی تمام ہجرتی انواع کو لاحق دو سب سے بڑے خطرات ہیں۔

Tweet URL

مختلف موسموں میں ایک سے دوسری جگہ ہجرت کرنے والی مچھلیوں کی بقا کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ ان مچھلیوں کی 97 فیصد انواع معدوم ہونے کو ہیں۔ 

مساکن کا تحفظ

جنگلی جانوروں کی ہجرتی انواع کے تحفظ پر عالمی کنونشن کے سیکرٹریٹ (سی ایم ایس) کی سربراہ ایمی فرینکل کا کہنا ہے کہ ان جانداروں کے مساکن کو تحفظ دینا ضروری ہے۔ یہ جانور اور پرندے باقاعدگی سے سفر کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں اپنے مساکن تک پہنچنے کے لیے ہزاروں میل دور جانا پڑتا ہے۔ انہیں راستے میں اور نسل کشی یا خوراک کے حصول کی جگہوں پر بہت سے مسائل اور خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ 

'دنیا میں ہجرتی انواع کی صورتحال' کے عنوان سے یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) میں جانداروں کے تحفظ پر کام کرنے والے سائنس دانوں نے ازبکستان میں جاری 'سی ایم ایس' کانفرنس کے لیے تیار کی ہے۔ کنونشن کے ریاستی فریقین کی اس 14ویں کانفرنس کا آغاز 12 فروری کو ہوا جو 17 فروری تک جاری رہے گی۔ 

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ

رپورٹ کے مطابق آئندہ دہائیوں میں حیاتیاتی تنوع پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ درجہ حرارت میں تبدیلی کے نتیجے میں ہجرتی انواع کے اوقاتِ سفر میں غیرمعمولی تبدیلیاں آ سکتی ہیں یا ان کے اس معمول کا سرے سے ہی خاتمہ ہو سکتا ہے۔ 

موسمیاتی تبدیلی سے جانوروں اور پرندوں کے لیے خوراک کی تلاش میں صرف کیے جانے والے وقت میں بھی کمی آتی ہے۔ مثال کے طور پر افریقی جنگلی کتے شدید گرمی میں خوراک کی تلاش کے لیے کم وقت صرف کرتے ہیں اور حدت کے عرصہ میں ان کے ہاں کم تعداد میں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔

مزید برآں، درجہ حرارت میں اضافے سے ان انواع میں جنس کی شرح بے قاعدہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے سمندری کچھووں کی مثال اہم ہے جن میں جنس کے تعین کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ 

رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کو ہجرتی انواع کے لیے ناصرف براہ راست خطرہ قرار دیا گیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سے ان کے لیے آلودگی اور اپنے علاقوں میں دوسری انواع کی دراندازی جیسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

مرغابیاں سردیوں میں اپنے قدرتی ٹھکانوں سے گرم علاقوں کو ہجرت کرتی ہیں۔
Yancheng Broadcasting Television
مرغابیاں سردیوں میں اپنے قدرتی ٹھکانوں سے گرم علاقوں کو ہجرت کرتی ہیں۔

فوری اقدامات کی ضرورت

رپورٹ میں متعدد انواع کے حوالے سے تشویشناک حالات کو واضح کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جانوروں کی آبادی میں اضافہ اور ان کی انواع کو معدومیت سے بچانا ممکن ہے۔ تاہم اس کے لیے ہر سطح پر مضبوط و مربوط اقدامات درکار ہیں۔ 

اس حوالے سے قبرص میں پرندوں کی کم ہوتی تعداد میں دوبارہ اضافہ ایک نمایاں مثال ہے۔ اس ضمن میں پرندے پکڑنے کی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف مقامی سطح پر اقدامات کیے گئے تھے۔ قازقستان میں سیگا بارہ سنگھے کو معدومیت سے بچانے کے لیے اس کی نسل کو تحفظ دینے کے مربوط اقدامات بھی ایسی ہی مثال ہیں۔ 

رپورٹ میں اس مقصد کے لیے ترجیحی اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطرات سے دوچار اور معدوم ہوتی انواع کو بچانے کے لیے فوری کام کرنا ہو گا۔ 

ایسے اقدامات میں ہجرتی جانداروں کے غیرقانونی اور ناپائیدار انداز میں شکار پر قابو پانے کی کوششوں کو وسعت دینا، ہجرتی انواع کے اہم مقامات (مساکن) کی نشاندہی، تحفظ اور ان کے بہتر انتظام کے لیے مزید اقدامات اور ایسے جانوروں کو روشنی، شور، کیمیائی مادوں اور پلاسٹک کی آلودگی سے بچانا خاص طور پر اہم ہیں۔

ریاستی فریقین کی کانفرنس

ازبکستان کے شہر سمرقند میں جاری کانفرنس میں حکومتوں کے نمائندے، تحفظ جنگلی حیات کے ادارے اور سائنس دان کنونشن پر عملدرآمد کو فروغ دینے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ شرکا ہجرتی انواع کو تحفظ دینے کے لیے متذکرہ بالا سفارشات سمیت متعدد اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ 

ایمی فرینکل نے یو این نیوز سے کو بتایا ہے کہ کانفرنس میں کئی طرح کی انواع کے لیے مختلف پالیسیوں سے متعلق درجنوں موضوعات پر تبادلہ خیال ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کی بیماریاں بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔