انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نیپال: زلزلے سے متاثرہ 68 ہزار بچوں کو اب بھی مدد کی ضرورت

نیپال میں نومبر 2023 کو آنے والے زلزلے کے بعد ججرا کوٹ میں گھر اور دوسری عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔
UNDP Nepal
نیپال میں نومبر 2023 کو آنے والے زلزلے کے بعد ججرا کوٹ میں گھر اور دوسری عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

نیپال: زلزلے سے متاثرہ 68 ہزار بچوں کو اب بھی مدد کی ضرورت

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے گزشتہ برس نیپال میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ 68 ہزار بچوں اور ان کے خاندانوں کی امداد کے لیے 14.7 ملین ڈالر مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔

نومبر 2023 میں آنے والے 6.4 شدت کے اس زلزلے کو 100 روز مکمل ہو گئے ہیں۔ اس آفت میں 81 بچوں سمیت 154 افراد ہلاک اور 366 زخمی ہوئے تھے۔ کرنالی صوبے کا ضلع جاجرکوٹ اس زلزلے کا مرکز تھا جہاں بڑے پیمانے پر گھر، سکول اور طبی مراکز تباہ ہو گئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ علاقے میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی زلزلے میں بری طرح متاثر ہوا۔

Tweet URL

زلزلے میں 898 سکولوں کی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ ان میں 294 پوری طرح تباہ ہو گئیں اور 604 کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس صورتحال میں تقریباً 134,000 بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ 

زلزلے سے مجموعی طور پر دو لاکھ افراد متاثر ہوئے جن کی بڑی تعداد اب بھی عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہے۔ نیپال میں یونیسف کی نمائندہ ایلس اکونگا نے کہا ہے کہ سرد موسم کی سختیاں جھیلتے بچوں اور ان کے خاندانوں کو اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے مزید مدد کی ضرورت ہے۔ 

اقوام متحدہ کے اقدامات

یونیسف نے زلزلے سے فوری بعد حکومت اور شراکت داروں کے تعاون سے بچوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے اقدامات کیے۔ ادارے نے متاثرین کو ترپالیں، کمبل، طبی خیمے، تفریحی و تعلیمی سامان اور صحت و صفائی کی سہولیات مہیا کیں۔ 

یونیسف کے قائم کردہ 223 خواندگی مراکز کی بدولت 17 ہزار بچوں کے لیے دوبارہ تعلیم شروع کرنا ممکن ہوا۔ اس اقدام میں ترقیاتی شراکت داروں نے بھی ادارے کو معاونت مہیا کی۔ 

مزید برآں، یونیسف نے مقامی حکومتوں اور شراکت داروں کے تعاون سے 565 ٹوائلٹس کی مرمت اور 251 نئے ٹوائلٹ تعمیر کرنے میں مدد دی۔ اس کے علاوہ بچوں کو خسرے، روبیلا اور ٹائیفائیڈ جیسی مہلک بیماریوں سے تحفظ دینے کے لیے سرکاری سطح پر مہم میں بھی تعاون کیا گیا۔ 

امدادی وسائل کی ضرورت

یونیسف کی جانب سے زلزلہ متاثرین کے لیے 15.7 ملین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل پر تاحال 7 فیصد وسائل ہی جمع ہو پائے ہیں۔ ان وسائل کا بڑا حصہ مخصوص عالمی امدادی فنڈ سے آیا ہے۔ یہ ادارے کی جانب سے انسانی بحرانوں میں لوگوں کو تیزرفتار مدد مہیا کرنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ یونیسف کی قومی امدادی کمیٹیوں نے بھی امدادی وسائل مہیا کیے ہیں۔

ایلس اکونگا کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ بچوں کو گزشتہ تین ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے۔ وہ اپنے عزیزوں کے بچھڑ جانے کا صدمہ تاحال نہیں بھلا پائے۔ ان کی املاک، گھر اور سکول تباہ ہو گئے ہیں اور ان کی تعلیم، بہبود اور ترقی خطرے سے دوچار ہے۔