انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: بے پناہ امدادی ضروریات جبکہ دو یرغمالیوں کی بازیابی کی اطلاعات

غزہ کے زخمیوں کو خان یونس کے النصر ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔
© WHO
غزہ کے زخمیوں کو خان یونس کے النصر ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔

غزہ: بے پناہ امدادی ضروریات جبکہ دو یرغمالیوں کی بازیابی کی اطلاعات

امن اور سلامتی

غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیل کی سپیشل فورسز کی کارروائی میں دو یرغمالیوں کو بازیاب کرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ علاقے میں اب تک فراہم کردہ امداد ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے دبئی میں 'حکومتوں کی عالمی کانفرنس' سے خطاب کرتے ہوئے تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ اب تک غزہ میں 447 میٹرک ٹن طبی سازوسامان ہی پہنچایا جا سکا ہے جبکہ ضروریات اس سے کئی گنا زیادہ ہیں جن میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔ بحران کی شدت میں کمی لانے کے لیے امدادی اہلکاروں اور سازوسامان کی ضرورت مندوں تک محفوط رسائی لازمی ضرورت بن گئی ہے۔

صحت کا بحران

کانفرنس سے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ طبی کارکن انتہائی مشکل حالات میں مدد پہنچانے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے رفح شہر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں اس وقت غزہ کی بیشتر آبادی نے پناہ لے رکھی ہے۔ 

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس وقت غزہ کے 36 میں سے صرف 15 ہسپتال ہی طبی خدمات مہیا کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ تمام ہسپتال بھی جزوی طور پر یا برائے نام حد تک ہی فعال ہیں۔ 

جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کی شدید بمباری اور زمینی حملے جاری ہیں۔ رفح میں ایک عمارت کی دوسری منزل سے اسرائیل کے دو مرد یرغمالیوں کو بازیاب کرائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ 

امداد کی اپیل

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بتایا ہے کہ 11 لاکھ فلسطینیوں کے لیے بھیجا گیا امدادی سامان اسرائیل کی ایک بندرگاہ پر پھنسا ہے جبکہ غزہ کے خاندانوں کو شدید بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ 

اس سامان میں چاول، آٹے، چنے، چینی اور کھانے کے تیل پر مشتمل 1,049 کنٹرینر شامل ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث اس سامان کی غزہ کو ترسیل معطل ہے۔ بندرگاہ پر موجود آٹا غزہ میں بھیجنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث علاقے میں غذائی قلت کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے احتجاجی مظاہرین نے کیریم شالوم کا سرحدی راستہ 7 فروری سے بند کر رکھا ہے جس کے باعث اس راستے سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

بچے غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اپنے گھروں کے ملبے کے پاس کھیل رہے ہیں۔
© UNICEF/Eyad El Baba

رفح کا کرب

'انرا' نے بتایا ہے کہ رفح میں فضائی حملوں کے علاوہ خان یونس میں شدید زمینی لڑائی بھی جاری ہے۔ اس علاقے میں ادارے کی سب سے بڑی پناہ گاہ بھی حملوں کی زد میں آئی ہے۔

غزہ میں 'انرا' کے امور کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملوں کے دوران ادارے کے لیے اس علاقے میں محفوظ طور سے اپنی کارروائیاں جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔

'انرا' کے مطابق مصر کی سرحد سے متصل رفح شہر میں اس وقت 15 لاکھ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ جنگ سے قبل اس علاقے کی آبادی تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار تھی۔