انسانی کہانیاں عالمی تناظر
ایفوٹیکا گاؤں کی لوسیٹی ووگنینسیوا انڈیا کی کوروئلر نسل کی اپنی مرغیوں کے انڈے عام انڈوں کی نسبت چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر لیتی ہیں۔

میری کہانی: لوسیٹی کے انڈے ہر کوئی نہیں خرید سکتا

UN News/Daniel Dickinson
ایفوٹیکا گاؤں کی لوسیٹی ووگنینسیوا انڈیا کی کوروئلر نسل کی اپنی مرغیوں کے انڈے عام انڈوں کی نسبت چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر لیتی ہیں۔

میری کہانی: لوسیٹی کے انڈے ہر کوئی نہیں خرید سکتا

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) مڈغاسکر میں لوگوں کو بڑی مقدار میں انڈے اور گوشت دینے والی مرغیاں مہیا کر کے غذائیت کو بہتر بنانے میں تعاون کر رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ابتداً ملک کے جنوبی علاقے انوسے میں 80 سے زیادہ افراد کو یہ مرغیاں فراہم کی گئی ہیں جن کی بدولت ان کی آمدنی بہتر ہوئی اور زندگی خوشحال ہو گئی ہے۔

کوروئلر نسل کی یہ مرغیاں انڈیا سے تنزانیہ لائی گئی تھیں جن کی وہاں بڑے پیمانے پرافزائش نسل کی گئی۔ ایف اے او کے زیراہتمام ان مرغیوں کے انڈوں کو مڈغاسکر لا کر سیا گیا جن سے پیدا ہونے والی مرغیاں مقامی لوگوں کو دی گئیں تاکہ وہ ان سے تجارتی پیمانے پر انڈے اور گوشت حاصل کر سکیں۔ 

یہ مرغیاں بڑی تعداد میں انڈے دینے کے لیے مشہور ہیں اور ان سے گوشت بھی عام مرغیوں سے کہیں زیادہ مقدار میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ مقامی مرغیوں سے بہتر سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان کی بڑھوتری جلد ہوتی ہے اور یہ جسامت میں بھی عام مرغیوں سے بڑی ہوتی ہیں۔ کوروئلر مرغیوں کی ایک اور اہم بات یہ ہےکہ یہ موسمی سختیاں باآسانی جھیل لیتی ہیں۔

لوسیٹی ووگنینسیوا کوروئلر نسل کی اپنی ایک مرغی کے ساتھ۔
UN News/Daniel Dickinson
لوسیٹی ووگنینسیوا کوروئلر نسل کی اپنی ایک مرغی کے ساتھ۔

اچھی آمدنی کا ذریعہ

ایفوٹیکا گاؤں کی لوسیٹی ووگنینسیوا بھی کوروئلر مرغیوں کے انڈے فروخت کرتی ہیں۔ انہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ گزشتہ برس نومبر میں 'ایف اے او' نے انہیں تین مرغیاں اور دو مرغے فراہم کیے تھے۔ ان میں دو مرغیاں اب تک 46 انڈے دے چکی ہیں۔

لوسیٹی نے بتایا کہ وہ ایک انڈا 2,000 اریرے (0.45 ڈالر) میں فروخت کرتی ہیں جس کی قدر مقامی مرغی کے انڈے سے چار گنا زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ انڈے عام مرغی کے انڈے سے مہنگے ہیں اس لیے لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلکہ اس امید پر سینے کے لیے خریدتے ہیں کہ اس سے مرغا پیدا ہو گا جسے وہ مقامی مرغی کے ساتھ افزائش نسل کے لیے استعمال کریں گے۔ اس طرح ان کی مرغیوں کی تعداد اور آمدنی بڑھ جاتی ہے۔

لوسیٹی نے بتایا کہ بعض لوگ ان کے مرغے سے افزائش نسل کرانے کے لیے اپنی مرغیاں ان کے پاس لاتے ہیں۔ تاہم وہ انہیں انکار کر دیتی ہیں کیونکہ انہیں ان مرغیوں کی صحت پر شبہ ہوتا ہے۔ لوسیٹی کی مرغیاں اور مرغے صحت مند ہیں کیونکہ وہ انہیں ویکسین لگوا چکی ہیں۔ 

انہوں نے اپنی مرغیوں کو ایک پنجرے میں رکھا ہے اور انہیں عام مرغیوں کی طرح آزادانہ گھومنے پھرنے نہیں دیتیں۔ وہ انہیں بازار سے خصوصی خوراک لا کر کھلاتی ہیں تاکہ وہ کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر منہ نہ ماریں۔ ان کی مرغیاں پالتو جانوروں کی طرح ہیں جو اب انہیں پہچاننے لگی ہیں۔ وہ ان مرغیوں کو دیکھ کر بتا سکتی ہیں کہ انہیں کب خوراک کی ضرورت ہو گی اور کب انہیں پانی دینا ہے۔

انوسی کی گورنر وہاری راکوٹوولومنانٹسو کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ماحول سے مطابقت رکھنے والے اختراعی اقدامات کرنے پڑیں گے۔
UN News/ D. Dickinson
انوسی کی گورنر وہاری راکوٹوولومنانٹسو کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ماحول سے مطابقت رکھنے والے اختراعی اقدامات کرنے پڑیں گے۔

غذائیت بڑھانے کا پروگرام

لوسیٹی اپنے جیسے دیگر کسانوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ جرات مندانہ قدم اٹھا کر انہی کی طرح یہ مرغیاں پال لیں۔ یہ تنزانیہ سے آنے والی خالص نسل کی مرغیاں ہیں جن سے بھاری منافع حاصل ہو سکتا ہے۔لوسیٹی نے اپنی مرغیوں کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ گاؤں میں لوگ ان سے مشورہ لینے آتے ہیں کہ ایسی مرغیاں کیسے پالی جاتی ہیں۔ اب وہ اپنے علاقے میں 'غیرملکی مرغیوں والی خاتون' کے نام سے مشہور ہو چکی ہیں۔ 

'ایف اے او' عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو سکولوں میں مقامی طور پر پیدا کی گئی غذا مہیا کرنے کے منصوبے کے لیے ایفوٹیکا میں انڈے اور گوشت فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر غذائیت بڑھانے میں مدد دینا ہے۔