انسانی کہانیاں عالمی تناظر

وطن لوٹنے والے افغان مہاجرین کے لیے 38 لاکھ ڈالر کی امداد

افغانستان کو عالمی ادارہِ خوراک کی طرف سے فراہم کی گئی گندم جلال آباد میں اتاری جا رہی ہے۔
© WFP/Danijela Milic
افغانستان کو عالمی ادارہِ خوراک کی طرف سے فراہم کی گئی گندم جلال آباد میں اتاری جا رہی ہے۔

وطن لوٹنے والے افغان مہاجرین کے لیے 38 لاکھ ڈالر کی امداد

انسانی امداد

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو پاکستان سے افغانستان واپس آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی امدادی فنڈ سے 38 لاکھ ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ ان وسائل سے ان لوگوں کو غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے امدادی امور (اوچا) کی سربراہ آئزابیل کارلسن نے کہا ہے کہ یہ وسائل ایسے وقت مہیا کیے گئے ہیں جب ان کی اشد ضرورت تھی۔

Tweet URL

افغانستان میں اس وقت سخت سردی کا موسم ہے جس کے ساتھ خشک سالی اور غذائی عدم تحفظ جیسی کیفیات نے لوگوں کی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ 'سی ای آر ایف' کی جانب سے مہیا کردہ یہ وسائل واپس آنے والے ہزاروں لوگوں کے لیے زندگی کی ضمانت ہیں۔

33ہزار خاندانوں کی مدد

گزشتہ برس ستمبر سے اب تک پانچ لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان سے واپس آ چکے ہیں۔ ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغانستان کی ایک تہائی آبادی پہلے ہی بھوک کا شکار ہے۔ 

اقوام متحدہ کے امدادی فنڈ سے مہیا کردہ ان وسائل کی بدولت 'ڈبلیو ایف پی' کو تقریباً 33 ہزار خاندانوں یا دو لاکھ 30 ہزار مردوخواتین، بچوں اور معذور افراد کی مدد میں سہولت ملے گی۔

آئزابیل کا کہنا ہے کہ ادارہ افغانستان کے انتہائی بدحال لوگوں کو پائیدار طور سے امداد کی فراہمی اور ملک کے ساتھ ثابت قدم عالمی یکجہتی کے مطالبے میں پُرعزم ہے۔ اس وقت افغانستان کے لیے مہیا کی جانے والی انسانی امداد کی مقدار اب تک کی کم ترین سطح پر ہے۔ گزشتہ برس مالی وسائل کی قلت کے باعث 'ڈبلیو ایف پی' کو غذائی امداد میں کمی کرنا پڑی تھی جس سے ایک کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔ 

امدادی وسائل کی قلت

افغانستان کے لیے 'ڈبلیو ایف پی' کے نائب ڈائریکٹر موٹنٹا چموکا نے کہا ہے کہ ادارہ پہلے ہی مشکلات کا شکار اپنے مستقل امدادی پروگراموں سے وسائل کو بطور ادھار لے کر اس نئے بحران میں لوگوں کو مدد دے رہا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے امدادی فنڈ سے حاصل ہونے والے وسائل کی بدولت واپس آنے والے خاندانوں کی ایک ماہ کی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔ علاوہ ازیں، اس امداد سے مقامی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

2023  میں 'ڈبلیو ایف پی' کو افغانستان کے لیے مجموعی طور پر دو کروڑ 93 لاکھ ڈالر کے مالی وسائل موصول ہوئے تھے۔ اس سے ادارے کو صوبہ ہرات میں زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں مدد پہنچانا اور دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کو موسم سرما گزارنے کے لیے نقد یا غذائی امداد فراہم کرنا ممکن ہوا۔