پاکستان میں انتخابی عمل کو شفاف اور آزادانہ بنانے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور انتخابی امیدوراوں کے خلاف پُرتشدد اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مشمولہ و بامعنی جمہوری عمل کے لیے بنیادی آزادیوں کو برقرار رکھیں۔
جمعرات کو پاکستان میں پارلیمانی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر مسلح گروہوں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے ارکان پر حملوں کے کم از کم 24 واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
وولکر تُرک کا کہنا ہے کہ انتخابات انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے ملک کے عزم کی توثیق کا موقع ہیں اور ان سے خواتین اور اقلیتوں سمیت تمام افراد کو جمہوری عمل میں شرکت کی ضمانت ملتی ہے۔ پاکستان نے سلامتی اور معیشت سے متعلق متعدد مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزشتہ 15 برس کے دوران جمہوری تسلسل برقرار رکھا ہے۔ لہٰذا جمہوریت کا تقاضا ہےکہ تمام اہل سیاسی جماعتوں کو آزادانہ طور سے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع مہیا کیا جائے۔
اقلیتوں کے سیاسی حقوق پر زور
وولکر تُرک نے کہا ہےکہ انتخابات پاکستان میں خواتین اور اقلیتوں بالخصوص احمدیوں کو درپیش مسائل اور رکاوٹوں کی بھی یاد دہانی کراتے ہیں۔
ملک کی قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص 22 فیصد نشستوں کے باوجود بعض سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی امیدواروں کی فہرست میں پانچ فیصد کوٹہ مخصوص کرنے کی قانونی شرط پوری نہیں کرتیں۔ احمدی ووٹروں کے لیے الگ انتخابی فہرست کے باعث انہیں ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ رہتا ہے حالانکہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کے لیے مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔
انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ رائے دہی کے عمل کو آزادانہ و شفاف بنائیں اور ایسے ماحول میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کا عہد کریں جس سے تمام معاشی، سماجی، ثقافتی، شہری اور سیاسی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر تشویش
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابی عرصہ میں سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور اس کے حامیوں کو ہراساں کیے جانے، ان کی گرفتاریوں اور طویل قید کے واقعات پریشان کن ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف متعدد قانونی مقدمات قائم ہیں جن کے باعث انہیں طویل قید کی سزاؤں کا سامنا ہے اور وہ امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی عدالتیں قابل اطلاق جائز قانونی عمل کی مطابقت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی سزاؤں کا بالاحتیاط جائزہ لیں گی۔