انسانی کہانیاں عالمی تناظر
غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں ایک بچی بمباری مین تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھی ہے۔

غزہ: جنگ کے دوران بچوں کی امید برقرار رکھنے کی کوشش

© UNICEF/Eyad El Baba غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں ایک بچی بمباری مین تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھی ہے۔

غزہ: جنگ کے دوران بچوں کی امید برقرار رکھنے کی کوشش

امن اور سلامتی

غزہ میں جنگ کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں بچوں کا کم از کم ایک تعلیمی سال ضائع ہونے کا امکان ہے۔ چار مہینوں سے علاقے میں تعلیمی عمل معطل ہے اور کلاس روم بند پڑے ہیں یا پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

یو این نیوز کے نمائندے زید طالب نے وسطی غزہ کے شہر دیر البلاہ میں ایک سکول کے اساتذہ اور طلبہ سے بات چیت کی ہے جہاں پناہ کی تلاش میں آئے بڑی تعداد میں بے گھر لوگ مقیم ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ دیر البلاع میں ابتدائی تعلیم کے اس سکول کے صحن یا کمرہ ہائے جماعت میں شاید ہی کہیں کوئی خالی جگہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے زیراہتمام چلائے جانے والے 700 سے زیادہ تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ اس سکول کے میدان میں کبھی بچے کھیلتے اور تفریح کرتے تھے لیکن اب یہاں ہر جگہ خیمے دکھائی دیتے ہیں۔

ابراہیم جودہ اس سکول میں پانچویں جماعت کے طلبہ کو ریاضی پڑھاتے تھے۔ ان کا کہنا ہےکہ حالیہ جنگ سے پہلے یہ سکول سائنس اور تعلیم کا گڑھ ہوتا تھا۔ اب یہاں تدریس نہیں ہوتی۔ آج کل ابراہیم بےگھر لوگوں کی مدد کرتے اور ان کے مسائل حل کرنےکی کوشش کرتے ہیں جو غزہ کی پٹی کے دوسرے علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔

غزہ کا سکول دیر البلاح جو اب بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ کا کام دے رہا ہے۔
UN News غزہ کا سکول دیر البلاح جو اب بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ کا کام دے رہا ہے۔

بحران اور امید

دیرالبلاہ کی پناہ گاہ میں کام کرنے والے ایک اور استاد عبدالرحمان الشامی 7 اکتوبر کو لڑائی شروع ہونے کے بعد غزہ شہر سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'انرا' غزہ بھر میں معیاری تعلیمی خدمات مہیا کر رہا تھا۔ وہ کیمپ کی زندگی کو مختلف اور مشکل قرار دیتے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ ایک دن وہ اپنی سابقہ اور بہتر زندگی کی جانب واپس لوٹ جائیں گے۔

زید طالب کہتے ہیں کہ انہوں نے بعض بچوں سے بھی ملاقات کی جو اب تعلیم سے محروم ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی نے بتایا کہ وہ بچپن سے صحافی بننے کا خواب دیکھتی آئی ہے۔ اس وقت وہ ایک خیمے میں رہتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کے پاس سردی اور بارش سے بچاؤ کا مناسب بندوبست نہیں ہے اور صاف پانی تک رسائی بھی محدود ہے۔ ایک اور بچے نے بتایا کہ بمباری میں اس کا سکول مکمل تباہ ہو گیا تھا جس کےبعد وہ اپنے والدین کے ساتھ نقل مکانی کر کے دیرالبلاع چلا آیا۔

غزہ میں بچوں کا دل بہلانے کے لیے فیس پینٹنگ سمیت مختلف سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔
UN News/Ziad Taleb غزہ میں بچوں کا دل بہلانے کے لیے فیس پینٹنگ سمیت مختلف سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔

'بچوں کو کھیلنے کا حق ہے' 

زید طالب بتاتے ہیں کہ جنوبی شہر رفح کے تل السلطان کلینک میں انہوں نے بچوں کو قہقہے لگاتے اور تفریح کرتے دیکھا جو ایک غیرمعمولی منظر تھا۔ وہاں بچے تصویریں بنانے، رقص کرنے اور کھیلنے میں مصروف تھے۔

یہ بچے ایک دوا ساز سلافہ عبدالہلال کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شریک تھے جس کا مقصد 100 یوم سے زیادہ عرصہ سے جنگ کی تکالیف جھیلنے والے بچوں کو نفسیاتی مدد مہیا کرنا تھا۔ 

سلافہ نے بتایا کہ بچوں کو کھیلنے کا حق ہے۔ اس تقریب کا مقصد انہیں تحفظ کا احساس دلانا اور ایسا ماحول مہیا کرنا ہے جس میں وہ زندگی سے لطف اٹھا سکیں۔ 

رفح میں ایسے مزید دو طبی مراکز میں بھی ایسی ہی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن سے بچوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی فائدہ ہو گا۔ سلافہ کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے ان بچوں کو خوف اور مایوسی کے تاریک ماحول میں امید کی کرن دکھائی دی ہے۔