ال نینو اور موسمیاتی بحران سے مڈغاسکر میں خشک سالی کا خطرہ
قدرتی موسمیاتی مظہر 'ال نینو' دنیا بھر میں موسمی نظام کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتا ہے لیکن انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں آنے والی ہنگامی موسمیاتی تبدیلی لوگوں اور کرہ ارض پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔
براعظم افریقہ کے قریب ایک بڑے جزیرے کی صورت میں مڈغاسکر کو تواتر سے شدید موسمی کیفیات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اس کے لوگوں کو ان حالات سے نمٹنے میں مدد دے رہا ہے جس میں اسے مڈغاسکر کی حکومت کا تعاون بھی حاصل ہے۔
حالیہ برسوں میں مڈغاسکر کو غیرمعمولی تعداد میں سمندری طوفانوں اور چار دہائیوں کے بعد شدید ترین خشک سالی سے بھی واسطہ پڑ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بھوک پھیلی اور ہزاروں لوگ قحط کے دہانے پر پہنچ گئے۔
موسمیاتی بحرانوں سے نمٹنے اور ال نینو کے اثرات پر قابو پانے کے اقدامات سے متعلق اقوام متحدہ کی رابطہ کار رینا گیلانی ان دنوں مڈغاسکر میں ہیں۔ یہاں وہ مقامی آبادی کو موسمیاتی اثرات کے مقابل مضبوط بنانے اور موسمی شدت سے بچاؤ کے منصوبوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے یو این نیوز کے ڈینیئل ڈکنسن کو بتایا کہ ال نینو کیا ہے، انسان زندگی و زمین پر اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں اور موسمی شدت کے واقعات سے بچاؤ کیونکر ممکن ہے۔
رینا گیلانی: ال نینو معمول کی موسمی کیفیت ہے جو سمندر کے گرد فضائی درجہ حرارت میں تبدیلی لاتی ہے۔ موسمیاتی بحران کے نتیجے میں اس کیفیت کی رفتار اور شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس کے اثرات بہت شدید ہوتے ہیں جو شدید سیلاب یا خشک سالی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ آج کل افریقہ کے جنوبی خطوں میں بہت سی جگہوں پر اس کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں لوگوں کو موسمی شدت کے ایک واقعے سے پوری طرح سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا کہ دوسرا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ اس طرح بحالی کے عمل میں طویل وقت صرف ہوتا ہے۔
یو این نیوز: اس علاقے میں رہنے والے لوگوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
رینا گیلانی: یہ لوگ خوراک نہیں اگا سکتے جو زندہ رہنے کے لیے ان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر کسی کے پاس خوراک نہیں ہے تو وہ اپنے بچوں کو کام کرنے کے لیے بھیجے گا اور وہ سکول نہیں جا پائیں گے۔ موسمی شدت نے یہاں کے لوگوں کو تباہ حال کر دیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں یہ علم نہیں کہ آنے والے وقت میں ان کے ساتھ کیا ہو گا۔
یو این نیوز: ہم جنوبی مڈغاسکر کے ایک کھیت میں کھڑے ہو کر یہ دیکھ رہے ہیں کہ ملک حالیہ ال نینو سے نمٹنے کے لیے کس قدر تیار ہے۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ اس حوالے سے کتنی تیاری کی گئی ہے؟
رینا گیلانی: عالمی برادری اور حکومتوں کی حیثیت سے یا تو ہم لوگوں تک امداد پہنچنے کا انتظار کر سکتے ہیں یا پھر ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جن کی بدولت موسمیاتی اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔ اس میں خشک سالی کو برداشت کرنے والے بیجوں پر تحقیق، مقامی لوگوں کو پانی کی فراہمی اور انہیں روزگار مہیا کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ انہیں مدد دینے اور وسائل و زندگیاں بچانے کا موثر ترین طریقہ ہے۔
یو این نیوز: موسمی شدت کے اثرات سے محفوظ رہنے میں بروقت آگاہی کے نظام کا کیا کردار ہے؟
رینا گیلانی: افریقہ کے جنوب میں واقع بہت سے ممالک کے پاس اب ایسے نظام موجود ہیں جن کی بدولت وہ لوگوں کو مستقبل قریب میں موسمی شدت کے کسی واقعے کی بابت بروقت آگاہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں ایسے واقعات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ بروقت آگاہی کے طریقے وضع کرنے پر ہونے والی تحقیق پر اٹھنے والے اخراجات تباہی کا انتظار کرنے اور اس کی آمد پر ہونے والے نقصان سے سات گنا کم ہوتے ہیں۔
مڈغاسکر کی حکومت نے اقوام متحدہ کے تعاون سے بروقت آگاہی کا نظام قائم کیا ہے جو کہ سیکرٹری جنرل کی جانب سے اس مقصد کے لیے شروع کردہ اقدام کا حصہ ہے۔ اس خطے کو گزشتہ 15 برس میں 48 سمندری طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب اسے خشک سالی کا خطرہ لاحق ہے۔ ایسے واقعات سے بروقت آگاہی کے ذریعے لوگوں کو تباہی سے بچنے میں مدد ملے گی۔
یو این نیوز: موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف کامیاب اقدامات کے لیے مقامی شراکت داروں کے مابین تعاون کی کتنی اہمیت ہے؟
رینا گیلانی: ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ حکومتوں کے پاس ان اقدامات کی اہلیت ہو۔ ہمیں ان کے ساتھ اور امدادی و ترقیاتی شعبے کا قریبی تعاون درکار ہے تاکہ صلاحیتوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ ہمیں اس معاملے میں مقامی لوگوں کی بات پر بھی دھیان دینا ہو گا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کیا تبدیلی آ رہی ہے اور اسے روکنے یا اس کے اثرات کو محدود رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
یو این نیوز: آپ کی رائے میں موسمی شدت کے واقعات سے کامیاب طور پر نمٹنے کی علامت کیا ہو گی؟
رینا گیلانی: جب لوگ روزی کما رہے ہوں، انہیں خوراک اور دیگر ضروریات زندگی میسر ہوں اور ان کے بچے سکول جا رہے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ موسمی شدت کے اثرات سے محفوظ ہیں۔